دنیا کا سب سے طاقتور صدر تسلیم کیا جانے والا شخص جب وائٹ ہاوس کی صدارتی کرسی پر براجمان ہوتا ہے تو پوری دنیا کی سیاست و معیشت پر اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخابات کے اختتام کے ساتھ ہی وائٹ ہاوس کے نئے مکین کے بارے میں دنیا بھر میں چہ مگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔
امریکی صدر کی افسانوی گاڑی سے لے کر جدید طیارے تک ہر چیز موضوع بحث رہتی ہے۔
خصوصی گاڑی کی خصوصیات
امریکی میڈیا کے مطابق صدور کی گاڑیوں کو مختلف نام دیے جاتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ چار سال قبل جب صدر منتخب ہوئے تو معروف امریکی کمپنی جنرل موٹرز نے ان کے لیے خصوصی کار تیار کی تھی جسے ‘دی بیسٹ’ کا نام دیا گیا تھا۔
اس سے قبل سابق صدر باراک اوبامہ کے لیے بنائی گئی گاڑی کو کیڈلاک کا نام دیا تھا۔
امریکی میڈیا نے بتایا تھا کہ دی بیسٹ نامی گاڑی کیڈلاک سے زیادہ جدید اور سہولیات سے مزین کار تھی۔
صدر ٹرمپ کے زیر استعمال رہنے والی کارکی تیاری کے لیے کمپنی کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر ادا کیے گئے تھے۔
سابق صدر باراک اوبامہ کے زیر استعمال رہنے والی کیڈ لاک کا وزن آٹھ ٹن تھا اور اس کے ہر دروازے کی موٹائی آٹھ انچ ہی تھی۔
کار کے دروازوں کا وزن بوئنگ 747 کے دروازے کے برابر تھا۔
گاڑی کے اندر صدر اور ڈرائیور کے لیے مخصوص کیبن مکمل سیل ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے حملے سے محفوظ رہا جا سکے۔
امریکی صدر کی گاڑی کے اندر تازہ آکسیجن کی فراہمی کا مکمل بندوبست ہوتا ہے تاکہ کسی آلودہ جگہ سے گزرتے وقت صدر کو صاف ہوا مل سکے۔
گاڑی کے شیشوں کو کھولا نہیں جا سکتا، صرف ڈرائیور کو انتہائی ضرورت کے تحت تھوڑا سا شیشہ کھولنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
بلٹ پروف شیشوں والی یہ گاڑی کسی بھی حملے سے اندر بیٹھے افراد کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔
صدر کی گاڑی اعلی کوالٹی کیمروں سے مزین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں جی پی ایس ٹریکنگ اور سیٹلائٹ کمیونی کیشن سسٹم بھی نصب ہوتا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجسنی کی صورت میں امریکی صدر کا بیرونی دنیا سے رابطہ کرایا جا سکے۔
گاڑی میں امریکی صدر کے بلڈ گروپ والا خون بھی ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔
صدر کی گاڑی میں آگ بجھانے والے آلات، ہتھیار، نائٹ ویژن چشموں اور آنسو گیس چھوڑنے والے آلات موجود ہوتے ہیں۔
امریکی صدر گاڑی میں اپنی پسند کا رد و بدل کرا سکتے ہیں۔
امریکی صدر کا طیارہ
صدر کو استعمال کے لئے بوئنگ 747 طیارہ دیا جاتا ہے جو دنیا کی ہر سہولت سے لیس ہوتا ہے۔
طیارے میں 4000 اسکوائر فٹ کی جگہ ہوتی ہے جس میں صدر کے لیے ایک کمرہ، میڈیکل روم اور دیگر ایک سو لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے۔
امریکی صدر جب فضائی سفر پر نکلتا ہے تو اس دوران ایک گھنٹے کے دو لاکھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔
جنگی حالات میں یہ طیارہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔