سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اورعوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی کے خلاف ججوں پر دباؤ ڈالنے کا بڑا الزام لگ گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رہنما مرحوم اعظم خان ہوتی کی بیوہ نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر امیر حیدر خان ہوتی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے انکے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔
حمیرہ اعظم ہوتی نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کمشنر مردان مختیار زیب، ڈپٹی کمشنر مردان عابد وزیر، اسسٹنٹ کمشنر مردان مشتاق احمد، تحصیلدار عصمت اللہ اور پٹواری محمد شاہ سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے ایما پر انہیں مرحوم شوہر سے ملنے والی جائیداد پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرانا چاہتے ہیں ۔
درخواستگزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اعظم ہوتی مرحوم نے انہیں حق مہر میں 16 کروڑ روپے اور95 کنال زمین دی تھی اور انکے حق میں مقامی عدالت نے 2014 میں فیصلہ بھی دیا تھا تاہم اعظم ہوتی ریوینیو آفیسر کے سامنے اپنی علالت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے تھے اور2015میں انکے شوہر کا کینسر کے سبب انتقال ہو گیا تھا۔
درخواستگزار کا کہنا ہے کہ ریونیو حکام نے وفات کے بعد عدالتی فیصلہ طلب کیا جس کے لیے انہوں نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم ضلعی عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی جسے بعد میں پشاور ہائی کورٹ چیلنج کیا اور وہاں بھی انکی اپیل مسترد ہوگئی۔
انہوں نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ سپریم کورٹ نے 2016 میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے درخواست دائر کی جس میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی کیونکہ امیر حیدر نے لوئر کورٹس کے ججوں پر دباؤ ڈال کر درخواست کو داخل دفترکرا دیا۔
درخواستگزار حمیرا اعظم ہوتی نے مزید موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا کیس سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست کے ذریعے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی سول کورٹ میں منتقل کیا گیا مگرامیر حیدر ہوتی مختلف حیلے بہانوں سے معاملے میں تاخیر کی۔
انہوں نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کی متفرق درخواست پر 6 ہفتوں کا وقت دینے کی وجہ سے ریوینیو حکام نے درخواستگزار کے حق میں ڈگری پر عمل درآمد کرتے ہوئے خسرہ نمبر جاری کردیے۔
درخواستگزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ ریونیوحکام نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے کے بعد امیر حیدر خان ہوتی کے دباؤ اور ایما پر جاری کیے گئے زمین کے خسرہ نمبر منسوخ کردیے اور جب درخواستگزار نے ریوینیو حکام سے رابطہ کر کے وجوہات پوچھیں تو انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔
درخواستگزار نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ایسا کوئی فیصلہ آیا ہی نہیں اور امیر حیدر خان ہوتی سمیت فریقین نے سپریم کورٹ کے ساتھ دھوکہ دہی کی لہٰذا امیر حیدر خان ہوتی سمیت تمام فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔