ڈیمو کریٹس امیدوار جو بائیڈن اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن کی تخت نشینی کے لیے مقابلہ جاری ہے ۔ سی این این کی تازہ رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن 253 الیکٹورل ووٹس کے ساتھ جیت کے قریب ہیں تاہم گنتی ابھی جاری ہے ۔
امریکی انتخابات میں 1900 کے بعد اس مرتبہ ٹرن آﺅٹ 66.9 فیصد کے حساب سے سب سے زیادہ ہے۔ 2016کے صدارتی انتخاب کے وقت ٹرن آﺅٹ 60.1فیصد تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاستوں فلوریڈا ، اوہائیو،ٹیکساس اور لووا سے جیت چکے ہیں جبکہ جو بائیڈن نے امریکی ریاست مشی گن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرا دیا ہے، 2016کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ مشی گن سے کامیاب ہوئے تھے۔ امریکی ریاستوں ایریزونا،پنسلونیا،نارتھ کیرولینا اور جارجیامیں سخت مقابلہ کی فضا بنی رہی ۔
ووٹرز کے بڑے مسائل کون سے تھے؟
پانچ اہم مسائل کی بنیاد پر ووٹرز نے فیصلہ کرنا تھا کہ صدارتی ووٹ کسے دینا ہے ، نیشنل ایگزٹ پول میں بھی پانچ اہم ایشوز سامنے آئے ۔ امریکی ووٹرز نے معیشت ، نسلی تعصب ، کورونا وباء، کرائم اینڈ سیفٹی اور ہیلتھ کیئر پالیسی کے حوالے سے اپنی رائے دی ۔
35فیصد امریکی ووٹرز نے معیشت ، 20فیصد نسلی تعصب ، 17فیصد کورونا وباء، 11فیصد کرائم اینڈ سیفٹی اور 11فیصد نے ہیلتھ کیئر پالیسی کی اہمیت پر زور دیا ۔
امریکا کی کل 50 ریاستیں ہیں۔ ٹاپ ٹین الیکٹورل ووٹ والی ریاستوں میں کیلی فورنیا ، ٹیکساس ، نیویارک ، فلوریڈا، پنسلونیا ، ایلی نوس ، اوہائیو،مشی گن ،جارجیا ،نارتھ کیرولینا اور نیو جرسی شامل ہیں ۔
کیلی فورنیا کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 53، ٹیکساس 36، نیویارک27، فلوریڈا27 اورپنسلونیا 18، ایلی نوس 18،اوہائیو16،مشی گن 14،جارجیا 14، نارتھ کیرولینا 13 اورنیوجرسی کے 12الیکٹورل ووٹ ہیں۔
الیکٹورل ووٹ کیا ہے؟
عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونیوالے 538ارکان کے گروہ کو الیکٹورل کالج کہتے ہیں۔ کانگریس لائبریری کے مطابق الیکٹورل کالج کے 538ارکان کو امریکی ووٹرز ہی منتخب کرتے ہیں۔
ہر ریاست سے تمام پارٹیاں اپنے ارکان منتخب کرتی ہیں اور ہر ریاست میں پہلے سے ہی الیکٹورل کالج کا کوٹہ مختص ہے ۔امریکا کی تمام 50ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن سے مجموعی طور پر 538الیکٹورل کالج ارکان منتخب ہوتے ہیں ۔
538الیکٹورل کالج میں سے اگر 270ارکان کسی بھی امید وار کو ووٹ دیں گے تو وہ ملک کا نیا صد بن جائے گا ۔
امریکی انتخابات میں الیکٹورل کالج 300سال سے کام کرتا آرہا ہے ،18سال سے زائد عمر کے رجسٹرڈ ووٹرز الیکٹورل کالج ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔
2016 کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن نے زیادہ عوامی وو ٹ حاصل کیے مگر الیکٹورل کالج کے ووٹ کم ملنے سے وہ صد رنہ بن پائیں،ا ب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر صدارتی امید واروں کو یکساں الیکٹورل کالج ووٹ ملیں تو کیا ہوگا ؟
امریکی آئین میں کی گئی 12ویں ترمیم کے مطابق اگر اتفاق سے صدارتی امید وار کو یکساں الیکٹورل کالج ووٹ ملیں تو اس صورت میں ایوان نمائندگان کے رکن صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کریں گے۔
دونوں امیدواروں نے عوام سے کیا وعدے کیے؟
امریکی ووٹروں کیلئے صدارتی امیدواروں صدر ڈونلڈٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان مختلف قومی اور بین الاقوامی مسائل پر امتیاز کرنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے کیونکہ ری پبلکن اورڈیموکریٹس کی پالیسیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کا طرز سیاست اور منشور ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، صدر ٹرمپ نے اپنے وعدوں کے مطابق حکومتی عملداری کو ایک غیر روایتی انداز میں چلایا، ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیارات کو کئی بار استعمال کیا جس پر انہیں وفاقی عدالتی نظام کے سامنے رکنا پڑا ۔
ٹرمپ کے مقابلہ میں جو بائیڈن نے اپنی الیکشن مہم ترقی پسند پالیسیوں کی بنیاد پر چلائی ۔ جو بائیڈن نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ملک میں روایتی سیاست واپس لائیں گے جس کا انحصار ٹویٹر پر کم اور قانون سازی پر زیادہ ہو۔
گزشتہ ایک سال میں امریکی افریقی شہریوں کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت نے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ،صدر ٹرمپ اس حوالے سے ایسی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن کے تحت پرتشدد مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائے جبکہ صدر ٹرمپ کے مقابلہ میں جو بائیڈن نے اپنی پالیسی متوازن خطوط پر استوار کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوبامہ دور کے اوباما کیئر بل کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے استدعا کی لیکن جو بائیڈن اوبامہ کیئر پروگرام کو اسی انداز سے پھیلانے کے حامی ہیں تاکہ لوگوں کو صحت کی عام سہولت میسر ہو۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ امراء کیلئے ٹیکس چھوٹ کے حامی ہیں جبکہ جو بائیڈن نے کھلم کھلا کہا کہ وہ امرا اور کارپوریشنوں پر عائد ٹیکسوں کی شرح کو بڑھانا چاہتے ہیں ۔
امریکی قومی سلامتی پر دونوں رہنماؤں کا موقف
امریکی قومی سلامتی کا موضوع سب سے اہم ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کا قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے کیا موقف ہے؟
صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کے حوالے سے سوچ الگ تھلگ رہی ہے، ٹرمپ نے امریکی فوج کو بجٹ میں اضافے کے ذریعہ مضبوط کیا ہے اور دنیا کی مختلف جگہوں پر تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی، ان جگہوں میں تنازعات کے حامل افغانستان اور عراق جیسے ممالک اور امریکی حلیف جنوبی کوریا اور جرمن بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ کے دعوﺅں نے کہ نیٹو کے دوسرے ممالک امریکا کے مقروض ہیں اور یہ کہ امریکا اپنے وعدے پورے نہیں کرے گا، ان ملکوں سے کئی عشروں کے اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا۔
دوسری طرف بائیڈن ایک مضبوط امریکی فوج رکھنے کی حمایت کرتے ہیں اور بیرون ممالک مقامات پر سوچے سمجھے انداز میں امریکی افواج کی تعیناتی کے حق میں ہیں۔
جوبائیڈن جو کہ ایک وقت میں سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں، امریکا کے بہت سے اتحادی رہنماؤں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے ہیں۔
جو بائیڈن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر منتخب ہوتے ہیں تو ان تعلقات کی تعمیرنو کریں گے۔
ٹرمپ اور جو بائیڈن کی تجارتی پالیسی میں کیا فرق ہے ؟
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں آنے کے بعد ایک ایسی تجارتی پالیسی اپنائی ہے جس کی بنیاد ماضی میں کیے گئے کثیر الاقومی معاہدوں کی بجائے دو طرفہ بات چیت پر ہے۔
صدر ٹرمپ نے چین جیسے ملکوں کی برآمدات پر سزا کے طور پر بڑے ٹیکس عائد کیے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان جیسے ملکوں نے امریکا سے منصفانہ انداز میں تجارت نہیں کی۔
اس کے برعکس جو بائیڈن کہتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو ان کے شروع کے اقدامات میں کثیرالاقوام تجارتی معاہدہ ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ کی بحالی ہو گا۔ جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بڑھائے گئے تجارتی نرخوں کا ازسر نو جائزہ لیں گے۔
امریکا کی طرح دنیا بھر کے عوام واشنگٹن کے حکمران کی منتظر ہیں ، ٹرمپ کی شکست کی صورت میں جیرڈ کشنر کی وائیٹ ہاﺅس سے روانگی مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے بے چینی بڑھا سکتی ہے ۔