اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے پارٹی چھوڑنے اور سابق وزیر اعلی بلوچستان ثنااللہ زہری نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے استعفا دینے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد لیگی رہنماوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دو اشخاص کے نکل جانے سے مسلم لیگ ن بلوچستان کا کوئی نقصان نہیں ہوا، تنظیم مکمل طور پر اپنی جگہ کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ثناء اللی زہری دو سال سے غیرفعال ہو چکے تھے۔
اپنے بیان میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ثنااللہ زہری اپنی حکومت کے دفاع میں ناکامی پر پارٹی سے شرمندہ تھے۔ انہوں نے پارٹی کو چھوڑا ہے تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔
پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پارٹی چھوڑنے والے دونوں رہنماوں نے یہ بات سامنے رکھ دی ہے کہ اصل جھگڑا اسٹیج پر کرسی نا ملنے کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ و تحریک چلا رہی ہے وہ کسی بھی کرسی سے بڑی ہے۔
نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماوں نے پارٹی چھوڑنے کی جو وجہ بتائی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے جلسے سے قبل عبدالقادر بلوچ نے ملاقات کی تھی جس میں طلال چوہدری اور مصدق ملک بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے فوج سے متعلق بیان پر عبدالقادر بلوچ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔
محمد زبیر کے مطابق قادر بلوچ اسٹیج پر ثنااللہ زہری کو بلانا چاہتے تھے لیکن ثنااللہ زہری کے اسٹیج پر آنے پر اختر مینگل نے اعتراض کیا تھا۔
محمد زبیر نے بتایا کہ اصل دشمنی ثنااللہ زہری اور اختر مینگل کے درمیان ہے۔
یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران ن لیگ میں اختلافات سامنے آئے تھے۔