اسلام آباد کے ایک بینک میں خاتون ملازم کو ہراساں کرنے والے برانچ مینیجر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
مینیجر کی حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک خاتون ملازم کو ہراساں کر رہا تھا، اسے بینک کی نوکری سے بھی نکال دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشمنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق یہ شخص آئندہ کسی بھی بینک میں ملازمت نہیں کر سکے گا۔
بینک مینیجر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور ملزم کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ایک ٹویٹ میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف تمام شہادتیں موجود ہیں، اسے گرفتار کرنا چاہیئے۔
شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا تھا کہ اگر ہم خواتین اوربچوں سے بدسلوکی روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔