وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک دے نمٹنے اور دیگر معاملات پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس کچھ دیر میں وزیراعظم ہاؤس میں ہو گا اور اس میں اہم وفاقی وزراء شرکت کریں گے۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے افراد میں اسد عمر، پرویز خٹک، فواد چوہدری، بابر اعوان، شبلی فراز سمیت دیگر وزراء شامل ہیں۔
عمران خان نے پی ڈی ایم کو سرکس قرار دے دیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سب سے اہم نکتہ اپوزیشن کی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی تیاری اور مہنگائی میں کمی کرنے کے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے بیانیے کے جواب میں حکومتی بیانیہ طے کرنے پر بھی بات ہو گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نیب کیسز، سینیٹ الیکشن اور مختلف معاملات پر قانون سازی پر بھی مشاورت ہو گی۔
اس کے علاوہ اجلاس کے ایجنڈے میں جوبائیڈن کی جیت اور اس کے بعد کے معاملات پر بھی بات چیت ہو گی۔
اس سے قبل حافظ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پی ڈی ایم کو ایک سرکس قرار دیا تھا اور کہا تھا یہ لوگ مجھے اس لیے بلیک میل کررہے ہیں تاکہ میں نیب ختم کردوں اور ان کی چوری چھپ جائے۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ آپ جان لیں، آپ سب کا مقابلہ میرے ساتھ ہے۔
اس خطاب میں عمران خان نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا تھا کہ جب ہم نے نیب کو ختم کرنے سے انکار کیا تو یہ لوگ عدلیہ، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف پر حملہ پوری فوج پر حملہ ہے۔ نون لیگ فوج میں بغاوت کرا کے اس ادارے کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔
عمران خان نے مزید کہا تھا کہ نوازشریف بھارتی زبان بول رہے ہیں، اس سے میرا عزم مزید مضبوط ہو گیا ہے۔