سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ نوازشریف نے تین وجوہات کی بنا پر اپنی جماعت کو قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں شرکت سے روک دیا جس میں آئی ایس آئی چیف جنرل فیض نے شرکاء کو بریفنگ دینی تھی۔ بعد ازاں دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی شرکت سے انکار کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے چیف نے پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی کو بریفنگ دینی تھی، اس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں کے منتخب ارکان شامل تھے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ میٹنگ میں تیس چالیس کے قریب ارکان نے شریک ہونا تھا جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا، کئی جماعتوں کے رہنما بھی اس میں شامل تھے۔ اس خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کرنی تھی۔
ان کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہیں آنا تھا بلکہ آئی ایس آئی چیف نے ہی شرکاء کو قومی سلامتی کے اہم معاملات پر بریفنگ دینی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی گفتگو ہونی تھی جہاں انتخابی مہم جاری ہے اور سخت قسم کی تقریریں ہو رہی ہیں، مختلف جماعتوں کے سربراہ ایک دوسرے پر ذاتی حملے بھی کر رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت ان معاملات پر اپنے تحفظات رکھتی تھی کیونکہ یہ بہت حساس علاقہ ہے جہاں بھارت کے ساتھ بھی معاملات چل رہے ہیں اور سی پیک بھی اسی علاقے سے گزر رہا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق فوجی قیادت تمام سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دینا چاہتی تھی تاکہ انتخابات اور ان کے بعد کے معاملات پر قومی سلامتی کے حوالے سے انہیں تفصیلات بتائی جائیں۔ فوجی قیادت یہ چاہتی تھی کہ سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم ضرور جاری رکھیں لیکن نیشنل سیکیورٹی کے معاملات ضرور مدنظر رکھیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ آرمی چیف کی خفیہ ملاقات ہوئی تھی جس میں گلگلت بلتستان کا معاملہ زیربحث آیا تھا اور اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات خراب ہونا شروع ہوئے تھے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی کہانی جب باہر آئی تو کئی حلقوں کی جانب سے کہا گیا کہ ایسی ملاقاتیں آرمی میس کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں بلاول بھٹو، شیری رحمان، خواجہ آصف، سینیٹر مشاہد اللہ خان، سردار اختر مینگل، شیخ رشید، امیر حیدر ہوتی، شاہ محمود قریشی اور دیگر وزراء نے شرکت کرنی تھی۔
تاہم کل یہ معلوم ہوا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم کے انکار کی تین وجوہات
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ایک طرف سینیٹ کے اسٹاف میں کورونا کے 13 کیسز آ گئے ہیں جس کے بعد ایوان کو بند کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ ایک وجہ یہ بنی کہ پاکستان کی ٹاپ کی لیڈرشپ اس جگہ پر اکٹھا کرنا مناسب نہیں تھا جہاں کورونا کے مریض سامنے آئے ہوں۔
رؤف کلاسرا نے مصدقہ ذرائع سے معلوم ہونے والی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کہا کہ اس میٹنگ میں ہمیں نہیں جانا چاہیئے۔
انہوں نے بتایا کہ نوازشریف نے مسلم لیگ (ن) کے صرف 8 افراد تک یہ پیغام پہنچایا کہ نہ صرف آپ خود اجلاس میں شرکت نہ کریں بلکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی قائل کریں کہ وہ انکار کر دیں۔
رؤف کلاسرا کے مطابق نوازشریف نے ان 8 افراد کو کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اجلاس میں عدم شرکت پر سوال اٹھائیں، وہ ایسے کسی بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوتے بلکہ فوجی قیادت ہی اپوزیشن رہنماؤں کو بتاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیے کے مطابق اگر وزیراعظم شرکت نہیں کرتے تو اجلاس میں باقی رہنما کس لیے جائیں؟
رؤف کلاسرا کے مطابق نوازشریف کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ ایک طرف ہمیں غدار اور مودی کا یار کہا جاتا ہے اور دوسری جانب قومی سلامتی کی اہم ترین کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ بہت بڑا تضاد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے شرکت نہ کرنے کی تیسری وجہ یہ بتائی کہ وہ خود تو مسلسل آئی ایس آئی چیف جنرل فیض پر تنقید کر رہے ہیں، اگر نون لیگ کے لوگ ان کی بریفنگ میں شرکت کریں گے تو نوازشریف کا بیانیہ شدید متاثر ہو گا۔