پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور نوازشریف کے ترجمان محمد زبیر نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انکوائری رپورٹ ایک کوراپ ہے
پروگرام ‘مقابل پبلک کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ انکوائری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ آئی سندھ کو اغوا کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی اور رینجرز تو وزیر اعظم کو رپورٹ کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کو اس آپریشن کے بارے میں علم تھا اور کیا ان سے اجازت لی گئی تھی؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ادارے صوبائی حکومت کو بائی پاس کر کے آپریشن کرنے جا رہے تھے، اگر وزیر اعظم کو اس وقت نہیں بتایا گیا تو پھر کب بتایا گیا تھا کیونکہ ایک ہفتہ کے بعد ایک انٹرویو کے دوران وہ اس بات کا مذاق اڑا رہے تھے۔
محمد زبیر نے کہا کہ وزیر اعظم نے حقیقت معلوم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی جبکہ آرمی چیف اس معاملے کی انکوائری آرڈر کر چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو اس واقعہ کے بارے میں علم نہیں تھا تو وہ بیکار وزیر اعظم ہیں اور اگر ان کو علم تھا مگر اس کے باوجود مذاق اڑایا تو اس سے بھی بڑا قصور ہے۔
محمد زبیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کو علم تھا کہ انہوں نے دو اداروں کو آپس میں ٹکرایا ہے، ادارے اپنی حدود پار کرتے ہیں، یہی تو نواز شریف کا بیانیہ ہے اور یہی ہماری جنگ ہے۔
اینکر پرسن عامر متین نے سوال کیا کہ آپ نے اپنی توپوں کا رخ وزیر اعظم کی طرف موڑ دیا ہے مگر نواز شریف نے گورنمنٹ کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کیا تھا، تو اب آپ کیا چاہتے ہیں؟
محمد زبیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر چیز مرحلہ وار طے ہوتی ہے۔ سب وزیر اعظم کو ہی جواب دیتے ہیں اس لیے پہلے وہ خود آ کر بتا دیں کہ کس کی ذمہ داری ہے اس کے بعد ہمارا اگلا مطالبہ آئے گا۔
محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ یہاں کے سیکٹر کمانڈنٹ نے جو آپریشن کیا تھا کیا وہ اپنی مرضی سے کیا تھا یا پھر اس کے احکامات اسلام آباد سے آئے تھے یا راولپنڈی سے؟ کیا کسی کو بکرا بنایا جا رہا ہے اور ذمہ داری سونپی جا رہی ہے؟ یہ کیا مائنڈ سیٹ ہے جو طے کر رہا ہے کہ پولیس کام نہیں کر رہی ہے جبکہ آپ کی ذمہ داری بھی نہیں ہوتی ہے۔
یہ آپریشن مریم نواز کے خلاف تھا
سینئر صحافی اور اینکر پرسن رؤف کلاسرا نے محمد زبیر سے سوال کیا کہ آپ کی کیا معلومات ہیں کہ احکامات راولپنڈی سے آئے تھے یا پھر اسلام آباد سے؟
محمد زبیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو عمران خان بڑا سیاسی مخالف سمجھتے ہیں۔ جو آپریشن کیا گیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح مریم نواز کے پیچھے جانا ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ معاملہ اتنی چھوٹی سطح پر نہیں ہوا ہو گا۔
عامر متین نے کہا کہ آپ کھل کر بات کریں۔ نواز شریف جب بات کرتے ہیں تو وہ براہ راست فوجی قیادت پر بات کرتے ہیں جبکہ آپ لوگوں کا رخ وزیر اعظم یا پھر سویلین اداروں کی طرف ہوتا ہے جس سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آپ ایک پیج پر نہیں ہیں۔
محمد زبیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیکٹر کمانڈنٹ کا نام کسی کی زبان پر نہیں آ سکتا۔ یہ میرے ہی کہنے پر ہوا تھا، اس لیے آپ یہ نہ کہیں کہ ہم ڈرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں نہ بولتا اور بات پبلک نہ کرتے تو پھر یہ انکوائری بھی نہ ہوتی۔ یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ ہوا کیا تھا سوائے اس کے کہ کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا اور ان کی ضمانت ہو گئی۔
محمد زبیر نے کہا کہ اگر پی ایم ایل این نہ ہو تو کوئی آگے کھڑا ہونے کو تیار ہے؟ کسی میں اتنا دم خم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ہم فرشتے ہیں۔
آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع پر ووٹ دینے اور ڈیل نہ ملنے پر سوال پوچھا گیا جس پر محمد زبیر نے کہا کہ ملاقات میں اپنی پسند کے حصوں کو پوری قوم کو بتایا گیا۔ 7 گھنٹے کی دو ملاقاتیں تھیں، ان کا ٹرانسکرپٹ جاری کر دیا جائے۔ میں نے بار بار کہا کہ ہم نے کوئی ریلیف نہیں مانگا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سارے ایسے معاملات آئے تھے جیسا کہ نواز شریف کی نااہلی، سزا، مریم کے خلاف ریفرنس اور جیل مگر میں نے کبھی جنرل باجوہ سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔
محمد زبیر نے کہا کہ آرمی چیف نے اسد عمر کے بیٹے کے ولیمہ پر کہا تھا کہ آپ اسلام آباد کب آئیں گے؟ ملاقات ہونی چاہئے۔ میں نے سمجھا کہ یہ میرا فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ ملاقات کر کے اپنا موقف بتاؤں کہ پاکستان معاشی طور پر اور گورننس کے حوالے سے کہاں کھڑا ہے؟ خرابی وہاں ہوتی اگر میں آرمی چیف سے ریلیف مانگنے جاتا۔ میں نے کچھ مانگا بھی نہیں اور مجھے کچھ مانگنے کی بھی ضرورت نہیں۔
رؤف کلاسرا نے سوال کیا کہ آپ کو اب کیوں لگتا ہے کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر ووٹ ڈالنا غلطی ہے، 6 ماہ پہلے تک کیوں نہیں لگتا تھا کہ یہ غلطی ہے؟
محمد زبیر نے کہا کہ اس لیے تو ووٹ نہیں ڈالا تھا کہ ان کے ادارے کے لوگ دروازہ توڑ کر اندر گھس جائیں۔ آئی جی سندھ کو اٹھا کر لے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان کو لوگوں نے ووٹ اس لیے ڈالا تھا کہ چینی 110 فی کلو ہو جائے؟ ایسا نہین ہے بلکہ انہیں عوام نے اس لیے ووٹ دیا تھا کہ لوگ ریلیف کی امید کر رہے تھے۔
محمد زبیر نے ووٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں پارلیمنٹ کا ممبر نہیں ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈسپلن اور میرٹ پر چلنے والے ادارے میں ایکسٹینشن کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہئے۔
محمد زبیر کی فیملی کو دھمکا کون رہا ہے؟
رؤف کلاسرا نے محمد زبیر سے سوال کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق آپ کو اور آپ کی فیملی کواداروں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں؟
محمد زبیر نے کہا کہ ہم سوئٹزرلینڈ میں نہیں رہ رہے ہیں، بلکہ پاکستان میں رہتے ہیں، میرے خلاف اگر کوئی کرپشن کی فائل نہیں کھل سکتی تو ہر طرح سے ڈرایا، دھمکایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر جگہ میرا پیچھا کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ دو سال سے چل رہا ہے۔ میری فیملی کو ڈرایا دھمکایا جاتاہے۔ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ یہ نام نہیں لیتے اور وہ نام نہیں لیتے۔
محمد زبیر نے بتایا میرے اوپر دہشتگردی اور غداری کا کیس بھی بنا، ہم نے کوئی شور نہیں مچایا۔ میں نے کہا کہ سیاست میں ہوں تو سامنا کروں گا۔ فیملی ممبرز تک آنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہئے۔
اپنی بیگم کو ملنے والی دھمکیوں کے معاملے پر محمد زبیر نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھل کر بتانے سے گریز کیا۔