اسلام آباد: ایران نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاملات کو فروغ دینے کے لیے بارڈر کراسنگ کی سرحدی گزرگاہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے یہ اعلان وزیرخارجہ جواد ظریف کے دورہ اسلام آباد کے دوران کیا گیا۔
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سیاسی اور اقتصادی ماہرین پر مشتمل ایک وفد کے ساتھ پاکستان آئے تھے، انہوں نے دو روز پاکستان میں قیام کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان سمیت کئی سیاسی و عسکری حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان معمول کے اعلی سطح کے معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور علاقائی معاملات کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایران آئندہ ہفتے ریمدان کراسنگ پوائنٹ کھولے گا۔ یہ کراسنگ پوائنٹ بلوچستان کے چاہ بہار بندرگاہ سے 130 کلو میٹر دور ہے۔
ریمدان بارڈر کراسنگ
یاد رہے ریمدان بارڈر کراسنگ کو پیٹرولیم مصنوعات سمیت پھلوں، مویشیوں اور تعمیراتی سامان کی برآمد اور درآمد کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ نے زور دیا کہ پاکستان ان بارڈرز کے ساتھ ساتھ پشین مند کراسنگ پوائنٹ کو بھی کھولے۔
انہوں نے سیاسی قیادت سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ باہمی تعاون فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں بھی پاکستان حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے شاہ محمود قریشی کو بتایا کہ دونوں ممالک بارڈرز کے ذریعے تجارتی معاملات کو فروغ دینا چاہتے ہیں نیز باہمی تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔