کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے جنوبی علاقے مند میں تعلیم تک رسائی حاصل نا کر سکنے والے بچوں کو پڑھانے کا انوکھا طریقہ اپنایا گیا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 600 کلو میٹر دور واقع پاکستان ایران بارڈر کے قریب کے علاقے مند میں روشن نامی اونٹ کے ذریعے موبائل لائبریری قائم کر دی گئی ہے۔
اونٹ پر بنائی گئی موبائل لائبریری بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بچوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں فراہم کرتی ہے۔
زبیدہ جلال گرلز ہائی اسکول کی پرنسپل رحیمہ جلال کا کہنا ہے کہ ہم نے اس اونٹ کو روشن کا نام دیا ہے کیونکہ یہ اونٹ بلوچستان میں تعلیم سے محروم بچوں کی زندگیوں کو روشن کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے اونٹ لائبریری رواں سال اگست میں قائم کی تھی تاکہ کورونا کی وجہ سے بند کیے گئے اسکولوں کے بچے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں۔
یاد رہے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال اور ان کی بہن رحیمہ جلال نے الف لیلا بک بس سوسائٹی اور فیمیل ایجوکیشن ٹرسٹ بلوچستان کو لائبریری کو کتابیں مہیا کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
الف لیلا بک بس سوسائٹی ملک بھر میں تعلیم سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
رحیمہ جلال جو فیمیل ایجوکیشن ٹرسٹ بلوچستان کی ڈائریکٹر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ہم نے دو اکتوبر کو اس مشن کا آغاز کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی چھے ہفتوں میں ہم نے روشن کے ذریعے مند کے قریب چھ دیہاتوں میں کتابیں بھیجیں جن سے 150 کے قریب بچوں نے استفادہ حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ روشن جمعہ ہفتہ اور اتوار کے دن کتابیں بچوں کو سپلائی کرنے جاتا ہے اور ایک ہفتے میں تین دیہاتوں کے بچوں کو کتابیں مہیا کرنا روشن کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اول سے چھٹی جماعت تک کے بچے روشن سے کتابیں ادھار لیتے ہیں۔
حنیفہ عبدالصمد زبیدہ جلال ہائی اسکول میں میتھس اور انگریزی پڑھاتی ہیں، وہ کبھی کبھی روشن کے ساتھ بچوں کو کتابیں دینے جاتی ہیں، وہ بچوں کے سوالات کے جوابات بھی دیتی ہیں تاکہ انہیں پڑھائی میں آسانی ہو۔
حنیفہ عبدالصمد کا کہنا تھا کہ آغاز میں مجھے حیرت ہوتی تھی کہ موبائل لائبریری کا یہ طریقہ بلوچستان کے ان علاقوں میں کیسے کام کرے گا لیکن بچوں کو اتنی دلچسپی سے کتابیں لیتے دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں روشن کے ساتھ پر دیہات میں جاوں گی اور بچوں کی مدد کروں گی۔
یاد رہے پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق بلوچستان میں شرح خواندگی ملک کے سارے صوبوں سے کم ہے۔
ادارے کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے 62 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔
مند سے پانچ کلو میٹر دور ایک دیہات کوہ پشت کی رہائشی سارہ عبدالروف کا کہنا ہے کہ اونٹ کے ذریعے مہیا کی جانے والی یہ لائبریری دیہاتوں کے بچوں کے لیے ایک امید ہے۔