• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

اسٹیبلشمنٹ سے بات آئین کے دائرہ کار میں اور عوام کے سامنے ہو سکتی ہے، مریم نواز

by sohail
نومبر 12, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے اردگرد موجود کئی لوگوں سے رابطے کیے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) فوج کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہے مگر یہ سب گفتگو عوام کے سامنے ہونی چاہیے اور آئین کے دائرہ کار میں ہو سکتی ہے۔

مریم نواز نے فوج سے گفتگو کے متعلق کہا کہ ہم ضرور بات کریں گے تاہم کریز میں رہتے ہوئے ایسا ہو سکتا ہے، کوئی آئین کی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔

انکا کہنا تھا کہ ’میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔‘

موجودہ حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ اب پاکستانی عوام کے ساتھ ہو گا جس کا آغاز ہو چکا ہے، یہ مکالمہ اتنا اچھے انداز میں ہو رہا ہے کہ جو بھی فورسز ہیں وہ اور جعلی حکومت سب گھبرائے ہوئے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ گھبراہٹ میں اس قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست نہیں بلکہ وہ لوگ بند گلی کی طرف جا رہے ہیں جنہوں نے یہ مصنوعی سلسلہ قائم کیا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ہم جس شہر میں جا رہے ہیں وہاں ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دواور ریاست کے اوپر راست مت بناؤ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عوام نے اس کا ثبوت جگہ جگہ دیکھ لیا، اب یہ بند گلی نہیں ہے، اب یہی راستہ ہے، اور یہ راستہ آئین و قانون کی بالادستی کی جانب جا رہا ہے۔’

اس بات پر کہ بلاول بھٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں فوج کی مداخلت کے ثبوت سامنے لانے کے منتظر ہیں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘میاں صاحب نے بات بعد میں کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور ڈان لیکس کی حقیقت آپ کے سامنے ہے جب آپ ایک چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے۔‘

پاک فوج کی جانب سے آئی جی سندھ کے معاملے پر انکوائری رپورٹ کے متعلق مریم نے کہا کہ ‘اس پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے، مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ جذباتی افسران نے عوامی دباؤ کا ردِعمل دیتے ہوئے یہ کیا۔ کون سا عوامی ردِ عمل تھا، وہ جعلی لوگ جنھوں نے مقدمہ درج کروایا اور پھر مدعی ہی بھاگ گیا، ان تین چار لوگوں کے دباؤ کو آپ عوامی دباؤ کہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے۔ اداروں کا کام اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانا ہے ناکہ جذبات دکھانا۔

’اداروں کا کام جذبات کے ساتھ نہیں ہے، اور ان کا کام ہے اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں اور اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آ کر کیا ہے تو یہ تو ادارے کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہوا، چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرہ بنا دیا گیا، یہ غلط بات ہے۔’

ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان فارمولے کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مائنس عمران خان دیکھا جائے گا میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اس حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے۔ اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا اور نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔’پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ کھلا رکھنے پر بات کرتے ہوئے انھوں کہا کہ ‘میری نظر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ میں انھیں سیاسی لوگ نہیں سمجھتی۔ میرا اور میری جماعت کا مقابلہ اس سوچ کے ساتھ ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا پاکستان سے خاتمہ ہونا بہت ضروری ہے۔

اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ ان (تحریک انصاف) کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد انھیں معافی دینے کے مترادف ہو گا جو میری نظر میں جائز بات نہیں ہے۔ میری نظر میں اب ان کے احتساب کا وقت ہے، ان کے ساتھ الحاق کا وقت نہیں ہے۔ یہ ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا وقت نہیں۔ اب جب کہ وہ کمزور ہو گئے ہیں۔ تاہم باقی جماعتوں کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔اس سوال پر کہ کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے قانون سازی میں مسلم لیگ حکومت کا ساتھ دے گی، مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘جس طرح انھوں نے نواز شریف کے دیگر منصوبوں پر اپنی تختی چپکا دی ہے وہ کوشش انھوں نے یہاں بھی کی ہے لیکن لوگ جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ کس کا تھا۔ مجھے امید ہے کہ جب گلگت بلتستان کے عوام مسلم لیگ ن اور شیر پر اعتماد کریں گے تو یہ صوبہ بھی مسلم ن بنائے گی بلکہ اس کے ساتھ جو آئینی اصلاحات کی ضرورت ہے، یعنی این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کے شیئر دینا، وہ بھی ن لیگ دیکھے گی۔’

انھوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ یہ پارلیمان میں نہیں لائیں گے، یہ کام بھی ن لیگ کرے گی کیونکہ یہ صرف ان کا انتخابی وعدہ ہے۔’

اس سوال کے جواب میں کہ وہ اپنی تقریروں میں اپنی، نواز شریف کی بات زیادہ کرتی ہیں مگر عوامی مسائل کی کم۔ اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘میں جہاں بھی جاتی ہوں مجھے نواز شریف کے حامی دکھائی دیتے ہیں، اور اگر میں انھیں وہ نہیں سُناؤں گی جو وہ سننے آئیں ہیں، جو پاکستان سننا چاہتا ہے، تو میں اور کیا بات کروں۔

‘میں عمران خان کا نام بھی نہیں لینا چاہتی، لیکن وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس ملک میں نہیں ہونی چاہیے۔ تو جب ہم دیکھتے ہیں آٹا، چینی، گیس، بجلی مہنگی ہونے کی بات کرتی ہوں تو اور کس کا نام لوں اگر عمران خان کا نام نہ لوں۔ اور سب سے بڑا عوامی مسئلہ یہ ہے کہ ان کا ووٹ چوری کیا گیا ہے۔’ یہ خود ہی چیزیں مارکیٹ سے غائب کرتے ہیں اور پھر مہنگائی کر کے وہ واپس مارکیٹ میں لے آتے ہیں، یہ نوٹس لیتے ہیں اور چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ معاشی صورتحال ان نالائقوں کے ہاتھوں بہتر نہیں ہو سکتی، یہ حال ہوتا ہے جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں۔’

Tags: بلاول بھٹوبی بی سیمریم نوازنواز شریف
sohail

sohail

Next Post

پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل پانچویں ماہ اضافہ

وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے اسکول بند کرنے کا اشارہ دے دیا

کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا کی اداکاری میں انٹری

ٹرمپ انتظامیہ عالمی رہنماؤں کے پیغامات بائیڈن سے چھپا رہی ہے، میڈیا

دل کے امور کی تشخیص کے لیے نواز شریف کا طبی معائنہ شروع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In