اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرنے کی وجہ سے عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے۔
اردو نیوز کے مطابق جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے تصدیق کی ہے کہ حافظ حسین احمد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی شوریٰ کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کے رہنما اسلم غوری کو شعبہ اطلاعات کا انچارج بنا دیا گیا ہے۔
حافظ حسین احمد نے میڈیا پر مختلف انٹرویوز میں نوازشریف کے فوج مخالف بیانیے پر سخت تنقید کی تھی اور انہیں آستین کا سانپ قرار دیا تھا۔
انہوں نے شہباز شریف اور مریم نواز پر بھی شدید تنقید کی تھی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے متعلق کہا تھا کہ وہ پارٹی پالیسی کے برعکس نوازشریف کے بیانیے کی حمایت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کی گفتگو کو ان کا ذاتی بیان قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما عبدالقیوم ہالجیوی کی سربراہی میں 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔
یہ کمیٹی حافظ حسین احمد یہ فیصلہ کرے گی کہ حافظ حسین احمد کی پارٹی رکنیت ختم کی جائے یا اسے برقرار رکھا جائے۔
حافظ حسین احمد جے یو آئی کے سینئر رہنماؤں میں شامل ہے، ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع مستونگ سے ہے۔۔
1973 میں انہیں مفتی محمود نے اپنے قلم سے دستخط کر کے پارٹی کی بنیادی رکنیت دی تھی۔
حافظ حسین احمد اس سے قبل مشرف دور میں بھی پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں جس کے بعد ایک طویل عرصے تک انہیں جماعت کی جانب سے نظرانداز کر دیا گیا تھا۔
حافظ حسین احمد دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور ایک مرتبہ سینیٹر رہے۔ وہ قومی اسمبلی میں پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بھی رہے۔