پاکستان میں مقامی سٹریمنگ آپشنز کی عدم موجودگی کے باعث زیادہ سے زیادہ اداکار، ہدایتکار اور مصنفین ڈیجیٹل میڈیا کی طرف جا رہے ہیں جس سے نہ صرف ان کی مالی مشکلات کسی حد تک دور ہوتی ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتیوں کو بھی اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے 5 ڈرامے زی 5 کی ویڈیو آن ڈیمانڈ پر جاری کیے گئے، ان میں مہرین جبار کا ‘ایک جھوٹی لو سٹوری’ بھی شامل ہے جس میں بلال عباس اور مدیحہ امام نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
تاہم پاکستان کے مرکزی بینک نے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زی 5 سمیت بھارتی مواد دکھانے والے پلیٹ فارمز کے لیے کریڈٹ کارڈز یا کسی بھی دوسرے طریقے سے سبکرپشن کو روک دیں۔

سوشل میڈیا پر اسٹیٹ بینک کے اس حکم پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے فنکارانہ آزادی سلب کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک صارف نے ٹوئٹر پر طنزیہ لکھا کہ نیٹ فلیکس، ایمازون اور یوٹیوب کے متعلق کیا حکم ہے؟ سب کچھ بین کریں گے کیا؟
ایک اور ٹوئٹر صارف نے کہا کہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔۔۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہی نہیں کہ ہماری مقامی انڈسٹری ترقی کرے۔
اس سے قبل انٹرنیشنل ویڈیو سٹریمنگ ویب سائیٹ زی 5 نے پاکستانی ڈرامہ ‘چڑیلز’ کو بھی اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا تھا۔۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اسے دوبارہ دکھانا شروع کر دیا گیا، زی 5 نے اسے بڑا کامیاب ڈرامہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان کی ریگولیٹرری اتھارٹی پیمرا نے اسے ہٹانے کا کہا تھا۔