شہباز شریف فیملی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ایک اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔
نجی چینل کے صحافی شاکر محمود اعوان کی خبر کے مطابق سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں ایک دودھ فروش کے نام سے ایک لاکھ 63 ہزار 940 ڈالر (2 کروڑ 59 لاکھ روپے) منتقل کیے گئے۔
پتوکی میں بھینسوں کا دودھ فروخت کر کے گزر بسر کرنے والے رانا محمد ذیشان کے اکاؤنٹ سے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے کا سراغ ملنے کے بعد اسے قومی احتساب بیورو (نیب) نے طلب کر لیا۔
محمد زیشان کی جانب سے نیب کو جمع کرائے بیاں میں کہا گیا ہے کہ 2007 میں میرے نام سے انگلینڈ سے کروڑوں روپے سلمان شہباز کے اکاؤنٹس میں منتقل ہونے کا مجھے کوئی علم نہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ میں اپنی زندگی میں صرف ایک بار وزٹ ویزے پر دوبئی گیا، میرا شہباز شریف یا اسکی فیملی کے کسی ممبر سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔
دودھ فروش کا کہنا ہے کہ میرا سلیمان شہباز سے کوئی کاروباری یا ذاتی لین دین نہیں ہے۔
انہوں نے نیب سے درخواست کی ہے کہ ان کا نام غیر قانونی طور پر استعمال کرنے پر سلمان شہباز کیخلاف کاروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل غریب لوگوں کے اکاؤنٹس کو استعمال کر کے منی لانڈرنگ کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
نیب میں شہبازشریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف انکوائری چل رہی ہے جبکہ شہبازشریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز جیل میں قید ہیں۔