الیکشن کمیشن آج پاکستان (ای سی پی) نے اراکین اسمبلی کے گوشوارے پبلک کر دیے ہیں جس کے بعد مختلف اراکین کے درمیان موازنے جاری ہیں۔
اس حوالے سے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان بھی تقابل کیا جا رہا ہے، اگر ان کے گوشوارے دیکھے جائیں تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد خان امیر ترین قرار پاتے ہیں۔
ای سی پی کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان 2 ارب 86 کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ دیگر صوبوں کے ہم منصب افراد سے زیادہ امیر ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کےوزیراعلیٰ جام کمال دوسرے امیر ترین وزیراعلیٰ ہیں جن کے اثاثے ایک ارب 60 کروڑ روپے بتائے گئے ہیں۔
وہ 4 کروڑ 81 لاکھ روپے مالیت کی 15 گاڑیوں کے مالک ہیں، ان کے اندرون ملک اثاثوں کی مالیت 72 کروڑ روپے جبکہ بیرون ملک جائیداد کی قیمت 5 کروڑ روپے ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ 23 کروڑ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں، ان کے پاس ایک کروڑ 5 لاکھ مالیت کی دو قیمتی کاریں بھی موجود ہیں۔
مراد علی شاہ کے پاس اپنی والدہ کی طرف سے دیا گیا 100 تولے سونا بھی موجود ہے، مراد علی شاہ کی دونوں صاحبزادیوں کے پاس بیس بیس لاکھ روپے مالیت کے پلاٹس موجود ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کی غیرمنقولہ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ تونسہ شریف میں ان کا 14 کنال پر تعمیر کیا گیا بنگلہ موجود ہے۔
عثمان بزدار کی ڈیرہ غازی خان میں بھی چار کنال زمین موجود ہے۔
ان کے پاس تین ٹریکٹرز اور دو دیگر گاڑیاں بھی ہیں جب کہ ان کے اکاونٹ میں 770 ملین روپے موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی اہلیہ کے پاس تین جائیدادیں ہیں جب کہ ملتان میں بھی ان کی زرعی زمین ان کے نام پر ہے۔
یاد رہے اس سے قبل ای سی پی کی جانب سے ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کے اثاثوں کی بھی تفصیل جاری کی گئی تھی۔
دوسری جانب خواتین اراکین اسمبلی پاس موجود زیورات اور نقد رقوم کی تفصیلات بھی منظر عام پر لائی گئی تھی۔