قصور میں عدالت نے 11 ماہ کی معصوم بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔
قصور کے رہائشی رفیق نے 11 ماہ کی معصوم بچی زنیرہ فاطمہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج شاہد بشیر نےمعاملے کی سماعت کرنے کے بعد مجرم کو سزائے موت کا حکم سنایا۔
واضح رہے کہ رفیق نے پیرووالہ روڈ میں گیارہ ماہ کی زنیرہ فاطمہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تھانہ صدر پولیس نے اگست 2019 میں ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا تھا۔
قصور میں ہی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کے والد امین انصاری نے عدالتی فیصلے پر دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایسے درندوں کو درندوں کو سر عام پھانسی پہ لٹکایا جائے اور حکومت سرعام پھانسی کا قانون پاس کرنے میں حائل رکاوٹیں عبور کرے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی کشمور میں 4 سالہ بچی اور اس کی ماں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سے بچی اسپتال میں زیر علاج ہے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچی کا کامیاب آپریشن کر لیا گیا ہے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب کراچی کی رہائشی تبسم بی بی کو نوکری کا جھانسہ دے کر کشمور لے جایا گیا تھا جہاں انہیں اور ان کی بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
اے ایس آئی محمد بخش برڑو نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کی مدد سے بچی اور خاتون کا بازیاب کرایا اور ملزمان کو گرفتار کیا۔
معصوم بچی کے ساتھ وحشیانہ تشدد بھی کیا گیا جس سے اس کے پیٹ کی آنت نکل آئی، اس کے دانت توڑے گئے جب کہ سر کے بال بھی کاٹ دیے، اس کے علاوہ بچی کا گلا بھی دبایا گیا تھا۔
پولیس نے واقعے میں ملوث ایک ملزم رفیق ملک کو گرفتار کر لیا جس نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
دوسرے ملزم خیر االلہ سمیت دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔