سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مد مقابل جوبائیڈن پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ووٹس کو باقاعدہ طور پر چوری کیا گیا ہے تاہم امریکی الیکشن کمیشن کے حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی سامان مہیا کرنے والی ایک کمپنی نے 27 لاکھ ووٹس ڈیلیٹ کر دیے اور پنسلوانیا سمیت کئی ریاستوں میں سینکڑوں ووٹوں کو جو بائیڈن کے حق میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ووٹوں کی گنتی کے دوران بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر آپ قانونی ووٹوں کی گنتی کریں تو میں آسانی سے جیت جاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے ہیں۔
امریکہ کے وفاقی اور ریاستی انتخابات کے سینئر عہدیداروں نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ صدارتی انتخابات میں ووٹ بدلے گئے یا ووٹنگ کا نظام خراب ہے۔
امریکہ کے الیکشن کمیشن کی طرف سے الزامات کی تردید کے باوجود، ووٹوں سے متعلق افواہوں اور ٹوئیٹس کے ذریعے ٹرمپ نے انٹرنیٹ کو بھر دیا ہے۔
امریکہ کے سرکاری عہدیداروں نے صدر ٹرمپ اور ریپبلکن کی جانب سے کئے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات تاریخ کے محفوظ ترین الیکشن تھے۔
الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے انتخابات کے عمل کے بارے میں غلط معلومات حاصل کرنے کے بہت سے بے بنیاد دعوے اور مواقع موجود ہیں مگر ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں اپنے انتخابات کی سلامتی اور شفافیت پر مکمل اعتماد ہے۔
امریکہ کے الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ بیان ٹرمپ کی ٹوئیٹ کئے جانے چند گھنٹے بعد دیا گیا۔
ڈومینین ووٹنگ سسٹم کمپنی اور ریاست پنسلوانیا کے سرکاری محکموں کی جانب سے ٹرمپ کے ان دعوؤں کی تردید کر دی گئی ہے۔
انتخابی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تمام ریاستوں میں ہر ووٹ کا کاغذی ریکارڈ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر بیلٹ کو گننے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
انتخابی حکام کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ ملک بھر میں انتخابی عہدیدار اپنے ریاستی اور مقامی نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور ڈبل چیک کا عمل بھی جاری ہے۔