نگورنو کاراباخ کے رہائشیوں نے آرمینی فوج کی شکست اور علاقہ آذری فوج کے زیر انتظام آنے سے قبل یہ علاقہ چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ گاڑیوں پر اپنا سامان لاد کر روانہ ہو رہے ہیں۔
ایک شخص سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے، ہمیں زبردستی نکالا جا رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ گھر کا تمام سامان لے جا رہے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ ہم مختصر سا سازوسامان لے جا رہے ہیں۔ ہم یہاں 25 برس سے رہ رہے ہیں۔ ٹرک میں سب کچھ لے جانے کی گنجائش نہیں ہے۔
ایک اور شخص سے سوال پوچھا گیا تو اس نے کہا یہاں امن ہے تاہم ہم علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں، ہم اب بھی واپسی کے لیے پرامید ہیں۔
اس کا کہنا تھا کہ میں 1990 میں ہونے والی پہلی جنگ میں شریک ہوا تھا اور زخمی ہو گیا تھا، موجودہ جنگ میں میرا بیٹا زخمی ہوا ہے۔
اس علاوہ ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آ رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی لوگ علاقہ چھوڑنے سے قبل اپنے مکانوں کو آگ لگا رہے ہیں۔
اپنے مکان کو آگ لگانے والے ایک شخص نے میڈیا سے گفتگو میں بتایاکہ اب اس مکان میں وہ نہیں رہ سکتا اس لیے وہ اسے ترکوں (آذریوں) کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا، یہاں سب لوگ علاقہ چھوڑنے سے قبل اپنے گھروں کو جلا دیں گے۔
نگورنو کارا باخ کے علاقے پر آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان متعدد جنگیں ہو چکی ہیں، یہ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے آرمینی فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا۔
حالیہ جنگ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہی جس میں آرمینیا نے اپنے 2317 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، روش کی معاونت سے دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے جسے آذربائیجان کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے مطابق آرمینیا کے قبضے سے حالیہ جنگ میں چھڑائے گئے علاقے آذربائیجان کے پاس ہی رہیں گے اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی آرمینیائی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔
ان علاقوں پر 1993 میں آرمینیا نے قبضہ کیا تھا جس کے بعد یہاں رہنے والے ہزاروں آذری باشندوں کو ہجرت کرنا پڑی تھی، موجودہ جنگ کے بعد یہی صورتحال آرمینیا کے لوگوں کو درپیش ہے اور وہ یہ علاقے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
معاہدے کی رو سے آرمینی فوج کو ضلع کالباجار اور اغدام کا کنٹرول 20 نومبر تک آذری فوج کے حوالے کرنا ہے جب کہ لاچین یکم دسمبر تک خالی کیا جائے گا۔
اس معاہدے کے بعد مذکورہ علاقے میں روسی فوج اور ٹینکس داخل بھی ہوگئے ہیں ۔ آذری صدر کے مطابق ترکی بھی اس علاقے میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور اس کے بھی امن دستے یہاں تعینات ہوں گے۔