پاکستان کے معروف صحافی اور ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں بتایا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں حال ہی میں ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں بڑے صحافیوں اور ٹی وی اینکرز نے شرکت کی، اس میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے بھی لیکچر دیا اور سوالوں کے جواب دیے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق جنرل فیض نے علاقائی سیکیورٹی پر گفتگو کی اور بھارت و افغانستان سے متعلق معاملات پر شرکاء کو بریف کیا تاہم اس دوران پاکستانی سیاست پر بھی ان سے سوالات کیے گئے۔
کیا ایاز صادق غداری کے مرتکب ہوئے؟
انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ سے ایاز صادق کے بیان کے حوالے سے سوال کیا گیا جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس پر ہمیں زیادہ ردعمل نہیں دینا چاہیئے کیونکہ جتنی زیادہ گفتگو ہوتی ہے اتنا ہی بھارتی حکومت اور ان کا میڈیا اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق جنرل فیض نے اس ورکشاپ میں لیکچر کے دوران کسی پر بھی غداری کے فتوے لگانے سے احتراز کی بات کی۔
میڈیا کو رام کیا جائے یا مکالمہ کیا جائے؟
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی سے میڈیا پر پابندیوں کے متعلق بھی سوال کیا گیا جس پر انہوں نے انکشاف کیا کہ فوجی قیادت کی اندرونی گفتگو میں ایک مرتبہ اس موضوع پر بھی سوچا گیا کہ میڈیا کو کس طرح رام کیا جائے لیکن بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا کو پارٹنر بنانا ہے اور ان کے ساتھ مکالمہ کرنا ہے۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے مطابق فوجی قیادت نے میڈیا کے ساتھ بیٹھ کر انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کرنے اور مختلف معاملات پر اسے اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا۔۔
نواز شریف کو کیسے باہر بھیجا گیا؟
سینئر صحافی نے بتایا کہ جنرل فیض حمید نے اس ورکشاپ کے دوران سب سے اہم گفتگو نوازشریف کے متعلق کی، ان سے کسی نے سوال نہیں پوچھا کہ سابق وزیراعظم کو باہر بھیجنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کتنا ہاتھ تھا بلکہ انہوں نے اپنے لیکچر میں خود ہی اس کا تذکرہ کر دیا۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ اپنے لیکچر کے دوران جب جنرل فیض سیاست میں حقیقت اور تاثر میں فرق کی وضاحت کر رہے تھے تو انہوں نے نوازشریف کے ملک سے باہر جانے کو بطور مثال پیش کیا اور انکشاف کیا کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ فوجی قیادت نے کسی ڈیل کے تحت انہیں باہر بھیجا حالانکہ حقیقت میں یہ بات یکسر غلط ہے، فوج کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے اصرار کے ساتھ کہا کہ فوج کا انہیں باہر بھجوانے میں کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا تھا، یہ سب کچھ ایک پراسیس کے ذریعے ہوا۔
رؤف کلاسرا نے وضاحت کی کہ پراسیس سے ان کی مراد نوازشریف کی بیماری، حکومتی فیصلے اور عدالتی کارروائیاں شامل ہیں جو سب کے سامنے تھیں، پس پردہ کچھ بھی نہیں چل رہا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنرل فیض نے وضاحت کر دی ہے مگر پاکستان میں جب بھی بڑے سیاسی فیصلے یا ہنگامے برپا ہوتے ہیں تو عموماً ان کے پیچھے کسی خفیہ ہاتھ کو تلاش کیا جاتا ہے جس سے مراد اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ پاکستان میں بہت سے لوگ ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے۔