کورونا وبا کے باعث پاکستان میں تعلیمی ادارے بند کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث جاری ہے۔ جہاں والدین اپنے بچوں کی صحت کے متعلق پریشان ہیں، وہاں وہ ان کی تعلیم کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں۔
کئی ماہ بند رہنے کے بعد اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں حال ہی میں کھلی ہیں لیکن کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے اب انہیں دوبارہ بند کرنے کا مطالبہ سامنے آ رہاہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم کی کانفرنس ہوئی جس میں صورتحال پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران تعلیمی اداروں میں کیسز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور موسم سرما کی قبل از وقت چھٹیاں دینے اور ان کی تعداد بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں صوبائی وزرائے تعلیم نے اسکولز بند کرنے کی مخالفت کر دی تاہم یہ طے کیا گیا کہ حتمی فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کرے گی۔
وفاقی وزیر شفقت محمود نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے لئے بچوں کی زندگی اور صحت اولین ترجیح ہے۔ تعلیمی اداروں سے متعلق جو فیصلہ ہو گا اس پر سب کو عمل کرنا ہو گا۔
آئندہ ہفتے وزرائے تعلیم کا دوبارہ اجلاس ہو گا جس میں اس حوالے سے صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ تعلیمی ادارے بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ آج شام این سی او سی کے اجلاس میں ہوگا۔
اسکولز بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق این سی او سی اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد حتمی منظوری دی جائے گی۔
وزیرتعلیم پنجاب مراد راس کا کہنا ہے کہ ابھی خطرناک صورتحال سامنے نہیں آئی، سرکاری اور نجی اسکولز میں ایس او پیز پر بہترانداز میں عمل ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 2128 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 19 مزید افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔