تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان خادم حسین رضوی کی کال پر اتوار کے روز راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جمع ہوئے، تحریک لبیک پاکستان نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف ریلی کا اہتمام کیا تھا لیکن ریلی کے آغاز سے پہلے ہی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
راولپنڈی کے لیاقت باغ کے قریب ٹی پی ایل کے ڈنڈہ بردار کارکنان اور پولیس کے درمیان دن بھر تصادم جاری رہا۔
پولیس اور مذہبی جماعت کے کارکنان کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ وارث خان سمیت درجنوں پولیس اہکار اور ٹی پی ایل کے متعدد کارکنان زخمی ہو گئے۔
پولیس کی جانب سے اس قدر شیلنگ کی گئی کہ متصل علاقوں کے رہائشیوں کیلئے سانس لینا مشکل ہو گیا۔
اس سے پہلے ہفتے کو ہی پولیس کی جانب سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ مری روڈ اور اطراف کی مارکیٹیں اتوار کے روز بند رکھی جائیں، پولیس کی جانب سے وارننگ دی گئی تھی کہ اگر کسی نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
راولپنڈی انتظامیہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی ریلی کو روکنے کیلئے شہر کے تمام داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ راولپنڈی ڈویژن میں ہفتے کی رات سے موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
فیض آباد سے اسلام آباد میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کو پولیس اہلکار چیک کر کے مسافروں سے استفسار کر رہے تھے۔
اس ساری صورتحال میں ٹی پی ایل کے 3 ہزار کارکنان فیض آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئے گئے اور انہوں نے وہاں پر دھرنا دے دیا۔
اسلام آباد پولیس نے ریلی کو روکنے کیلئے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر کے مظاہرین کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا۔
متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے 3100 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جس میں رینجرز، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کے بیٹے سعد رضوی اور دیگر علما نے خطاب میں کہا کہ وہ گرفتاریوں اور شیلنگ سے رکیں گے نہیں اور منصوبے کے مطابق ریلی جاری رکھیں گے۔
قائدین نے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے اور فرانس کے ساتھ تمام سفارتی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو ختم کیا جائے۔
یاد رہے ریلی کے دوران کئی مظاہرین میٹروبس ٹریک پر چڑھنے میں کامیاب رہے، اسی دوران ان کا پولیس سے تصادم بھی ہوا اور میٹرو بس اسٹیشنز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔