متحدہ عرب امارات نے کوورنا وائرس کی وبا سے لڑنے میں مدد کرنے والے وبائی امراض کے ماہرین اور ڈاکٹرز کیلئے 10 سال کے رہائشی ویزے کا اعلان کیا ہے۔
ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی غیر ملکیوں کے لئے طویل مدتی رہائش حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ غیر ملکیوں کو ملازمت کے حساب سے صرف محدود رہائشی ویزے دیے جاتے ہیں۔
مذکورہ ممالک نے دولت مند کاروباری اور انتہائی ہنر مند مزدوروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے گزشتہ سال ‘گولڈن’ 10 برس کا ویزہ پروگرام متعارف کرایا تھا۔
اس ضمن میں وزیراعظم شیخ محمد بن راشد مکتوم نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا کہ ڈاکٹریٹ ڈگری رکھنے والے، میڈیکل ڈاکٹرز، کمپیوٹر، الیکٹرانکس، پروگرامنگ، الیکٹریکل اور بائیوٹیکنالوجی انجینئرز اس پروگرام کیلئے اہل ہوں گے۔
دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا مزید کہنا تھا کہ تسلیم شدہ جامعات کے طلباء، جنہوں نے بہت اچھے گریڈز حاصل کئے ہوں، وہ بھی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح جو لوگ آرٹیفشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت)، بگ ڈیٹا (بڑے ڈیٹا) اور وبائی امراض کا علم رکھنے والے (ایپیڈیمولوجی) میں اسپیشلائزڈگری رکھتے ہوں، وہ بھی اس پروگرام کو حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رہے دبئی کے فرمانروا اس سے قبل 2019 میں سرمایہ کاروں، انجینئرز، سائنسدانوں اور فنکاروں کو مستقل شہریت دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت گولڈن کارڈ حاصل کرنے والے افراد کے شریک حیات اور بچے بھی ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
خیال رہے یو اے ای سے پہلے سعودی عرب نے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے خصوصی معیار پر پورا اترنے والے غیر ملکی افراد کیلئے ‘اسپیشل پریولیجڈ اقامہ’ کا اعلان کیا تھا۔