کراچی پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ڈی ٹی) کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نے انکشاف کیا ہے کہ مفتی امین عرف مفتی عبداللہ کے قتل کی کوشش میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے۔
کراچی میں میڈیا کے نمائندوں کے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی عمر شاہد کا کہنا تھا کہ ملزمان مدثر جاوید، حارث عرف لنگڑا اور ابوسفیان نے تفتیش کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے نئے طریقے کنٹرکٹ کنلگ کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پکڑے گئے ملزمان کا تعلق لیاری گینگ کے ایک گروہ زاہد شوٹر سے ہے جو مبینہ طور پر بھارتی ایجنسی را کے لیے کام کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے لیاری گینگ کا ایک اور گروہ کا نام لیا جو گینسٹرز کو فنڈز فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ راجا عمر خطاب کی سربراہی میں سی ڈی ٹی ٹیم نے اتوار کی رات کو کارروائی کرتے ہوئے حارث اور ابو سفیان کو ککڑی گراؤنڈ کھارا در سے گرفتار کیا۔
ان کے تیسرے ساتھی مدثر جاوید کو مفتی عبداللہ پر حملے کے دوران جائے حادثہ سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بائیکا اور فوڈ پانڈا سے تعلق رکھنے والے کچھ عناصر رقم اور ہتھیاروں کی منتقلی میں بھی ملوث ہیں۔
سی ٹی ڈی چیف کا کہنا تھا کہ یہ دیوبندی علما کی ٹارگٹ کلنگ ایک اور خطرے کو جنم دے سکتا ہے جبکہ اس سے فرقہ وارانہ فسادات کا زیادہ امکان ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی وفاقی اداروں کی مدد سے مولانا عادل قتل کیس پر بھی کام کر رہی ہےجس کے بعد تفتیشی اداروں کو کچھ شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد ہر چند ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔