وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کی سربراہی میں حکومتی وفد کی تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے ساتھ چار نکاتی معاہدہ طے کیا گیا ہے جس کے چند گھنٹوں کے بعد دھرنے کے شرکاء منتشر ہوگئے۔
دھرنا ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کی بند شاہراہوں کو کھول دیا گیا ہے جب کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ اعجاز شاہ ، کمشنر اسلام آباد عامر احمد، مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور سیکرٹری داخلہ بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے۔
چار نکاتی معاہدہ کیا ہے؟
1۔ حکومت دو سے تین ماہ کے اندر قانون سازی کر کے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی۔
2. فرانس میں بھی پاکستان کا سفیر تعینات نہیں کیا جائے گا۔
3۔ ملک میں لائی جانے والے تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
4۔ تمام گرفتار کارکنان کی رہائی کو نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان دو روز سے فیض آباد میں دھرنا دیا تھا، ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان حکومت فرانس کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کرے اور فرانسیسی سفیر کو بے دخل کر دے۔
ان دو دنوں میں یہ دھرنا تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کے بغیر جاری تھا، ان کے متعلق یہ اطلاعات تھیں کہ وہ حکومتی تحویل میں ہیں اور انہیں دھرنا ختم کرنے کے لیے قائل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد انہیں اس وقت دھرنے میں جانے کی اجازت دی گئی اور امید ہے کہ وہ تھوڑی دیر میں شرکاء کو دھرنا ختم کر کے واپس چلے جانے کا کہہ دیں گے۔