معذوری یا محرومی کسی بھی شخص کو زندگی بھر کے لیے مفلوج کر سکتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی معذوریوں کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں۔
ایسی ہی ایک باہمت اور نڈر شخصیت ھیفا غبرہ ہیں، جن کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
ہیفا آج سے 25 سال قبل معذوری کا شکار ہوئیں جس کے بعد ان کے جسم کا نچلا دھڑ مفلوج ہو کر رہ گیا۔
انہوں نے اپنی معذوری کو زندگی بھر کی ناکامیوں میں بدلنے کی بجائے اسی اپنی طاقت بنانے کا عزم کیا اور کامیاب بھی ہوئیں۔
سعودی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیفا نے بتایا کہ میں اللہ کی بے حد شکرگزار ہوں جس نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں معذوری اور غربت کو شکست دینے کے قابل ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے بازار سے انواع اقسام کے موتی منگوا کر ان سے خوبصورت ہار اور لڑیاں بنانی شروع کی اور آہستہ آہستہ میں اس کام میں مہارت حاصل کرتی گئی۔
ہیفا کا کہنا تھا کہ موتیوں مونگوں سے خوبصورت ہار بنانا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن اب اس کو میں اپنا ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔
انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس پیشے کی وجہ سے ان کی آنکھوں کی روشنی متاثر ہوئی ہے کیونکہ یہ کام بہت باریک بینی سے کرنا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف رنگوں اور حسین امتزاج کے دھاگوں میں موتی اور پتھر پرونا اور ان کو خوبصورت مالاوں کی شکل دینا ایک مشکل اور توجہ طلب کام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب وہ کام کرتے ہوئے صحیح طرح سے دیکھ نہیں پاتی لیکن وہ اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تیارکردہ مالائیں 100 سے 1000 ریال کے درمیان بکتی ہیں۔