امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس سے چھٹی کرنے سے قبل ایران کے خلاف اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی خبررساں اداروں اور سابق حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنے سینیئر مشیروں کو خفیہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
اجلاس میں نائب صدر مائیک پینس، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر سی ملیر نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا کہ آیا ان کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ اپنے آخری دنوں میں ایران کی مرکزی جوہری تنصیب کے خلاف اقدامات کر سکیں؟
ٹرمپ کے سینئر عہدیداروں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایران کے جوہری منصوبے کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم رہیں۔
امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ماریک اے میلی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کا ایران کے خلاف کسی قسم کا قدم ان کے آخری دنوں میں ایک مشکل صورتحال کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ باآسانی ایک تنازع کی شکل اختیار کر جائے گا۔
اجلاس میں شریک وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے بھی انہیں ایران کے جوہری تنصیبات کو نشانے بنانے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر اب بھی ایران اور ان کے حلیفوں پر رب لگانے کے طریقے سوچ رہے ہیں اور وہ یہ کام وائٹ ہاوس سے رخصت ہونے سے پہلے کرنا چاہتے ہیں۔
یاد رہے اس سے پہلے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے خبر سامنے آئی تھی کہ جوہری معاہدے کی رو سے تہران کو یورینیم کا جتنا زخیرہ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ایران کے پاس اس سے 12 گنا زیادہ زخیرہ ہے۔
ایجنسی کے مطابق ایران نے ماہرین کو ایک مشکوک ٹھکانے تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔
ایجنسی نے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر ایران کے کسی خفیہ ٹھکانے پر جوہری سرگرمی کے ثبوت موجود ہیں۔