برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا سے متاثرہ مشیر سے ملاقات کے بعد قرنطینہ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ وہ حکومتی معاملات زوم ایپ کے ذریعے چلائیں گے۔
کورونا کا شکار ہونے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اسپتال داخل
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حاملہ منگیتر بھی کورونا وائرس کا شکار
بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہے ہیں اور حکومتی معاملات کو چلانے کے لیے تیار ہیں لیکن اسی دوران وہ خود کو دو ہفتوں کے لیے آئسولیشن میں رکھیں گے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں کورونا میں مبتلا فرد سے ملاقات کے باوجود بالکل ٹھیک ہوں۔
گزشتہ روز انہوں نے اپنی انتظامیہ کے ایک قانون دان لی اینڈرسن سے 35 منٹ کی ملاقات کی تھی، بعد ازاں اینڈرسن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
بورس جانسن کے صحت سے متعلق مشیروں نے انہیں دو ہفتوں کے لیے آئسولیٹ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔
بورس جانسن نے سیکرٹری ہیلتھ میٹ ہنکاک نے ان کے صحت مند ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کا شبہ نا رکھا جائے، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم بورس جانسن رواں سال مارچ کے آغاز میں بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد وزیر خارجہ ڈومینک راب نے نگراں وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالی تھی۔
ابتدا میں میں انہیں کورونا کی چند علامات پر شبہ ہوا تھا، ٹیسٹ مثبت آنے پر وہ گھرمیں ہی قرنطینہ میں چلے گئے تھے۔
بعدازاں ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کر دیا گیا تھا۔
انہیں تین دن تک انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھے جانے کے بعد دو دن کے لیے مزید اسپتال میں ہی رکھا گیا تھا تاکہ ماہرین صحت ان کی نگرانی کر سکیں۔
12 اپریل کو ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا تھا جس کی رپورٹ منفی آنے پر انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔