• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جنرل فیض کی گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز اور مریم نواز کا مطالبہ، رؤف کلاسرا کا اہم تجزیہ

by sohail
نومبر 16, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
1
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سینئر صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے نئے وی لاگ میں بتایا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے جو لیکچر دیا اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر مگر بہت اہم بات کی ہے کہ اس وقت ملک کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ اس سے قبل مریم نواز بھی فوج سے گفتگو پر آمادگی کا اظہار کر چکی ہیں اس وجہ سے یہ ایک فقرہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اسلام آباد میں دھرنا کلچر

رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ اسلام آباد بڑا پرسکون شہر ہوا کرتا تھا اور یہاں کبھی کنٹینرز وغیرہ جی سے نظارے دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پہلے نوازشریف نے وکلاء تحریک کے دوران اس شہر کی طرف رخ کیا، بعد ازاں دھرنا طاہرالقادری اور ان کے بعد عمران خان نے یہاں دھرنا دیا اور پھر یہ کلچر شروع ہو گیا۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس کے بعد بڑا دھرنا تحریک لبیک پاکستان نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف دیا تھا جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کافی لڑائی ہوئی تھی۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اسی جماعت نے عمران خان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں پھر دھرنے کی کوشش کی مگر اس بار انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا اور ان کے رہنماؤں کو سزائیں بھی دی گئیں جس کے بعد سمجھا گیا کہ اب یہ باب ختم ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہ ہو سکا اور تحریک لبیک پاکستان ایک بار پھر فیض آباد میں دھرنا دیے بیٹھی ہے، دو دن سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری دہری اذیت میں مبتلا ہیں، ایک طرف راستے بند ہیں تو دوسری جانب موبائل فونز بند کر دیے گئے ہیں۔

ریاست طاقت کے استعمال سے خوفزدہ

انہوں نے کہا کہ لال مسجد اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد ریاستی ادارے اپنی قوت استعمال کرنے میں محتاط ہو گئے ہیں، پولیس بھی یہی سمجھتی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرے گی تو سیاسی لوگ ایک طرف ہو کر تمام ملبہ اس پر ڈال دیں گے، اس وجہ سے وہ بھی بھرپور انداز میں شہریوں کے خلاف ایکشن نہیں کرتے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دھرنا دینے والوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے اور وہ بے خوف ہو کر احتجاج کرتے ہیں اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکومت کی بے حسی

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس وقت جڑواں شہر مکمل طور پر محاصرے میں ہیں اور حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کچھ پتا ہے اور نہ ہی وزیرداخلہ کوئی بات کر رہے ہیں۔ ریاست نے شہریوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے کیا کہا؟

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ این ڈی یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی کے لیکچر کے دوران معروف صحافی خاور گھمن نے سوال پوچھا کہ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی قوتیں ہیں، وہ سب اپنے مفادات کی اسیر ہیں اور معاشرے میں شدید قسم کی تقسیم پیدا ہو چکی ہے تو اس کا کیا حل ہے؟

انہوں نے بتایا کہ جنرل فیض حمید نے جواب میں مختصر فقرہ کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت ملک میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ 90 کی دہائی میں بینظیر بھٹو نے نئے عمرانی معاہدے کی بات کی تھی، بعد میں ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن کی بات چلتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو انہوں نے بھی کہا تھا کہ ریاست کے مختلف ستونوں کو مل کر ایک ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا کوئی ڈائیلاگ اگر ہوتا ہے تو کن شرائط پر ہو؟ مریم نواز کی شرط یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت پہلے ہٹائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے کچھ لوگوں سے رابطے میں ہے، اس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کا نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرنا کافی معنی خیز معاملہ ہے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایسا کوئی ڈائیلاگ شروع ہوتا ہے تو اس کی شکل کیا ہو گی؟ کیا تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کوئی نیا سماجی معاہدہ کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سوال عمران خان کے متعلق ہے، کیا وہ اس ڈائیلاگ کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟ وہ تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ میں حکومت چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔

Tags: ڈی جی آئی ایس آئیرؤف کلاسرارؤف کلاسرا کا وی لاگعمران خانگرینڈ نیشنل ڈائیلاگمریم نواز
sohail

sohail

Next Post

حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد فیض آباد دھرنا ختم

نچلا دھڑ مفلوج، خاتون نے اپنی معذوری کو طاقت بنا لیا

وائٹ ہاوس سے رخصتی سے قبل امریکی صدر کا اہم اقدام کا فیصلہ

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر، ایک روز میں 105 افراد جاں بحق

بختاور بھٹو زرداری کا منگیتر کون ہے؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

Comments 1

  1. Imran says:
    5 سال ago

    Great

    جواب دیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In