سینئر صحافی اور معروف اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے نئے وی لاگ میں بتایا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے جو لیکچر دیا اس میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر مگر بہت اہم بات کی ہے کہ اس وقت ملک کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ اس سے قبل مریم نواز بھی فوج سے گفتگو پر آمادگی کا اظہار کر چکی ہیں اس وجہ سے یہ ایک فقرہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اسلام آباد میں دھرنا کلچر
رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ اسلام آباد بڑا پرسکون شہر ہوا کرتا تھا اور یہاں کبھی کنٹینرز وغیرہ جی سے نظارے دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پہلے نوازشریف نے وکلاء تحریک کے دوران اس شہر کی طرف رخ کیا، بعد ازاں دھرنا طاہرالقادری اور ان کے بعد عمران خان نے یہاں دھرنا دیا اور پھر یہ کلچر شروع ہو گیا۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس کے بعد بڑا دھرنا تحریک لبیک پاکستان نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف دیا تھا جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کافی لڑائی ہوئی تھی۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اسی جماعت نے عمران خان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں پھر دھرنے کی کوشش کی مگر اس بار انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا گیا اور ان کے رہنماؤں کو سزائیں بھی دی گئیں جس کے بعد سمجھا گیا کہ اب یہ باب ختم ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہ ہو سکا اور تحریک لبیک پاکستان ایک بار پھر فیض آباد میں دھرنا دیے بیٹھی ہے، دو دن سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری دہری اذیت میں مبتلا ہیں، ایک طرف راستے بند ہیں تو دوسری جانب موبائل فونز بند کر دیے گئے ہیں۔
ریاست طاقت کے استعمال سے خوفزدہ
انہوں نے کہا کہ لال مسجد اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد ریاستی ادارے اپنی قوت استعمال کرنے میں محتاط ہو گئے ہیں، پولیس بھی یہی سمجھتی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرے گی تو سیاسی لوگ ایک طرف ہو کر تمام ملبہ اس پر ڈال دیں گے، اس وجہ سے وہ بھی بھرپور انداز میں شہریوں کے خلاف ایکشن نہیں کرتے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دھرنا دینے والوں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے اور وہ بے خوف ہو کر احتجاج کرتے ہیں اور اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حکومت کی بے حسی
سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس وقت جڑواں شہر مکمل طور پر محاصرے میں ہیں اور حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی، نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کچھ پتا ہے اور نہ ہی وزیرداخلہ کوئی بات کر رہے ہیں۔ ریاست نے شہریوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کیا کہا؟
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ این ڈی یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی کے لیکچر کے دوران معروف صحافی خاور گھمن نے سوال پوچھا کہ پاکستان میں جتنی بھی سیاسی قوتیں ہیں، وہ سب اپنے مفادات کی اسیر ہیں اور معاشرے میں شدید قسم کی تقسیم پیدا ہو چکی ہے تو اس کا کیا حل ہے؟
انہوں نے بتایا کہ جنرل فیض حمید نے جواب میں مختصر فقرہ کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت ملک میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ 90 کی دہائی میں بینظیر بھٹو نے نئے عمرانی معاہدے کی بات کی تھی، بعد میں ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن کی بات چلتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو انہوں نے بھی کہا تھا کہ ریاست کے مختلف ستونوں کو مل کر ایک ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا کوئی ڈائیلاگ اگر ہوتا ہے تو کن شرائط پر ہو؟ مریم نواز کی شرط یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت پہلے ہٹائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے کچھ لوگوں سے رابطے میں ہے، اس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کا نیشنل ڈائیلاگ کی بات کرنا کافی معنی خیز معاملہ ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایسا کوئی ڈائیلاگ شروع ہوتا ہے تو اس کی شکل کیا ہو گی؟ کیا تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کوئی نیا سماجی معاہدہ کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا سوال عمران خان کے متعلق ہے، کیا وہ اس ڈائیلاگ کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟ وہ تو بارہا کہہ چکے ہیں کہ میں حکومت چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔
Great