عالمی وبا کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومت نے جلسے، جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کاروبار کو ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ مساجد، فیکٹریوں اور دکانوں میں ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا جبکہ اسکولوں کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے بعد ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 دن میں کورونا کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، خدشہ ہے کہ خدانخواستہ حالات اس سے بھی خراب نہ ہو جائیں۔
وزیراعظم کے مطابق وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک ہوا ہے، اگر ابھی ہم احتیاط کر گئے تو اسے روک سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کا تجربہ یہ ہے کہ ماسک کے استعمال سے وبا کے پھیلنے کی شرح بہت کم ہو جاتی ہے، وبا کو پھیلنا تو ہے لیکن ہمیں اس کی رفتار کو کم کرنا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سب نے احتیاط کرنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی معیشت کو بھی بچانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت لاک ڈاؤن کے باعث ابھی تک معاشی بحران سے نہیں نکل پایا ہے، ہمیں فیکٹریاں اور دکانیں بالکل بند نہیں کرنی لیکن کاروبار میں ایس او پیز کی پابندی کرنی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق ٹائیگر فورس اپنے موبائل فون سے ہمیں بتائے گی کہ کون ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سارے ملک میں ہم نے بھی اپنے جلسے ختم کر دیے ہیں اور باقی سب سے بھی یہی کہیں گے۔
واضح رہے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ملک بھر کے بڑے شہروں جلسوں میں جلسوں کا اعلان کر رکھا ہے جسے وہ کسی صورت ملتوی کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔