پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسمگلنگ کے بڑھتے رحجان کے بعد ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ ساتھ 233 سرحدی چوکیوں کی تعمیر کی گئی ہے جس سے اسمگلنگ جیسی برائی کو کنٹرول کرنے میں مدد لی ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک دلچسپ ویڈیو میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسمگلنگ کے خفیہ راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ گاڑیوں کے مختلف پارٹس کو اونٹوں پر لاد کر دشوار گزار راستوں سے گزارا جا رہا ہے، خیال کیا جا رہا ہے کہ ان پارٹس کو پاکستان اسمگل کیا جا رہا ہے۔
ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے اسمگلنگ ایک غیرقانونی لیکن منافع بخش کاروبار ہے جس سے معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔
یہ کالا دھن عسکریت پسند اور دیگر گروہوں کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے فیصلے کے بعد طورخم میں بچوں کو اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ بچے سرحد عبور کرنے کے لیے ٹرکوں میں چھپ کر سفر کرتے ہیں اور بعض دفعہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔
چند اعلی عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے کہ اسمگلنگ میں بچوں کو استعمال کیے جانے والے گھناونے عمل نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی تجارت پر منفی اثر ڈالا ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان نے اپنے بارڈرز 24 گھنٹے کھلے رکھنے جیسے اقدامات کیے ہیں، اس سے قبل یہ بارڈرز طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھلے رکھے جاتے تھے، لیکن بچوں کے ذریعے اسمگلنگ ان اقدامات پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
بارڈز حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق افغان بارڈر پولیس اپنے مالی فائدے کے لیے افغانی بچوں کو اسمگلنگ میں مدد فراہم کرتی ہے۔