کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر جہاں چہرے کو ماسک سے ڈھکنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے وہی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس میدان میں بھی اپنے شاہکار سامنے لا رہی ہیں۔
ڈونٹ روبوٹکس نامی جاپانی کمپنی نے ایسا فیس ماسک ایجاد کیا ہے جو 8 مختلف زبانوں میں ترجمہ کر سکتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سی فیس اسمارٹ ماسک پہننے والے کی آواز کو معمول سے اونچا کرسکتا ہے تاکہ ماسک کی وجہ سےسننے والے کو کوئی مشکل پیش نا آئے۔
کمپنی کے مطابق ماسک کے سامنے والے حصے میں سوراخ بنائے گئے ہیں تاکہ پہننے والے کو سانس لینے میں آسانی ہو، لہذا اس ماسک کو کورونا وائرس کے خلاف مکمل حفاظتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ڈونٹ روبوٹک کے سی ای او تیسوک اونو نے بتایا کہ صارفین اس ماسک کو دوسرے معیاری ماسک کے اوپر پہن سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق ماسک کے اندر سفید پلاسٹک اور سیلیکون سے بنایا گیا مائیکروفون بھی لگایا گیا ہے، جو پہننے والے کے اسمارٹ فون کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔
ماسک میں بنایا سسٹم جاپانی، چینی، کورین، انڈونیشین، ویتنامی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ کر سکتا ہے، جو پہننے والے کو دنیا کے کسی بھی کونے میں دوسرے لوگوں سے بات کرنے میں مدد کر سکے گا۔
یاد رہے ڈونٹ روبوٹکس نے اس سے قبل سینا مون نامی ایک روبوٹ میں ترجمہ کرنے والا نظام اپ ڈیٹ کیا تھا لیکن کورونا کی وبا پھیلنے کے باعث پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا۔۔
اسی دوران کمپنی کے انجینئرز نے نیا منصوبہ بنایا جس کے تحت سافٹ ویئر کو فیس ماسک میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔
کمپنی کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کا بنایا گیا سینامون روبوٹ ایئرپورٹ پر مسافروں کو راستوں اور اصولوں سے متعلق رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
ڈونٹ روبوٹکس نے 2014 میں جاپان کے ایک شہر کتاکیوشو میں ایک گیرج سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔
کمپنی کے سی ای او کا کہنا تھا کہ ہم چھوٹے اور موبائل کمیونیکشن روبوٹ تیار کر کے دنیا کو بدلنے کا ارادہ رکھتے تھے۔