پروفیشنل زندگی اور ذہنی دباؤ ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور بعض اوقات دباؤ اسقدر شدید ہو جاتا ہے کہ انسان اس کے سامنے شکست تسلیم کر لیتا ہے۔
یہی کچھ بنگلہ دیش کے سابق انڈر 19 کرکٹر محمد سجیب حسین کے ساتھ ہوا جنہیں پروفیشن کرکٹ کھیلنے کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے مایوسی ہوئی اور انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
21 سالہ محمد سجیب حسین نے 2018 میں انڈر 19 ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی تھی مگر اس بار انہیں منتخب نہیں کیا گیا جس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔
خبروں کے مطابق ان کی لاش درگاپور میں ان کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی، ان کے والد کا کہنا ہے کہ جب وہ دیر تک بیدار نہ ہوئے تو انہوں نے کمرے میں جھانکا اور روح فرساں منظر ان کا منتظر تھا۔
سجیب حسین کے والد نے پولیس کو اطلاع کی جس نے آ کر کمرے کا دروازہ توڑا اس ان کی لاش باہر نکالی، ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے اسے خودکشی کا کیس قرار دیا ہے۔
2018 میں سجیب حسین زیادہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے اور انہوں نے 3 میچز میں 5 کی اوسط سے 10 رنز بنائے تھے۔
2018 سے انہیں پروفیشنل کرکٹ میں جگہ نہ مل سکی، بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بنگلہ دیش میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں انہیں کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیا۔