ایک ابتدائی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماؤتھ واش کے استعمال سے کورونا وائرس 30 سیکنڈز میں ختم ہو سکتا ہے۔
کارڈف یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ جس ماؤتھ واش میں کم از کم 0.07 فیصد سیٹل پریڈیمئن کلورائیڈ (سی پی سی) موجود ہو، اس کے استعمال سے وائرس ختم ہونے والے امید افزا شواہد سامنے آئے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق یہ بات ویلز کے یونیورسٹی ہسپتال میں کورونا مریضوں پر کیے گئے کلینیکل ٹرائل میں سامنے آئی ہے۔
ڈاکٹر نک کلیڈن کے مطابق اس بات کا امکان موجود ہے کہ مستقبل میں ماسک پہننے، سماجی فاصلے اور ہاتھ ملانے سے گریز کے ساتھ ساتھ ماؤتھ واش بھی انسانوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ماؤتھ واش انسان کے لعاب دہن میں موجود کورونا وائرس کو تو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے مگر یہ اس کے علاج کے لیے مفید ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ نہ ہی پھیپھڑوں تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی نظام تنفس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
ماؤس واش پر کی گئی تحقیق کرنے والے ڈاکٹر رچرڈ سٹینٹن کے مطابق یہ ابتدائی نتائج ہیں جن کا دیگر سائنسدانوں نے ابھی تجزیہ کرنا ہے، اگر ماہرین نے اس کی تصدیق کر دی تو کورونا کے خلاف یہ بہت بڑی خبر ہو گی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں بہت زیادہ پرجوش نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ وائرس اب بھی ناک اور سانس کی نالیوں یا پھیپھڑوں میں پل سکتا ہے۔۔
ان کا کہنا ہے کہ ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ وائرس سانس کی نالیوں نے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔