• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

مریض سے زیادہ ڈاکٹر کو علاج کی ضرورت؟

by sohail
نومبر 21, 2020
in انتخاب, کالم
0
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

آج میں اپنا پہلا کالم لکھنے لگا ہوں ۔ میں امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر ہوں۔ کینسر (سرطان ) کے علاج کا ماہر ہوں جس کو انکالوجسٹ (Oncologist)  کہتے ہیں ۔ پاکستان سے دور رہتا ہوں لیکن دل پاکستان میں رہتا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ اپنے ملک میں آکر غریب مریضوں کا علاج کروں، اگر اللہ نے چاہا تو ضرور یہ خواہش پوری ہوگی۔  پاکستان کے اسپتالوں کو دیکھ  کر اور ڈاکٹروں کی اکثریت کو دیکھ کر دل دُکھتا ہے اس لیے آج دل چاہا کہ کچھ ڈاکٹری کے حوالہ سے بات کی جائے۔

میری والدہ افسانہ صہبائی اور نانا مسعود احمد خان دونوں ہی کمال کے ڈاکٹر تھے ، ہر دلعزیز اور انسانوں سے محبت کرنے والے۔ میرے والد (شاہین صہبائی ) اور دادا (قدوس صہبائی ) کا تعلق صحافی برادری سے ہے اور اسی کے درخشاں ستارے ہیں۔ آج سوچا کہ کچھ لکھنے لکھانے کی جسارت کروں پھر کچھ شرم بھی آئی کہ کہیں اپنے ددھیال کا نام نہ ڈبو دوں۔

میں پیشہ کے حساب سے ڈاکٹر ہوں لیکن میں ڈاکٹری کو پیشہ نہیں سمجھتا۔ مجھے یہ ایک مقدس فریضہ لگتا ہے۔ پیشہ سے عموماً مراد یہ لی جاتی ہے کہ وہ چیز جو آپ کو پیسہ کما کر دے ۔ میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس امانت ہے۔ اسے پیسہ کمانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ خلقت کی دعائیں کمانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

جس طرح پیغمبروں پہ آسمانی کتب اور صحائف نازل ہوئے تھے ، اسی طرح جب ایک ڈاکٹر اپنے پیشہ سے انصاف کرتا ہے تو اللہ اُ س کے اندر بدرجہ اتم وہ خوبیاں پیدا کردیتا ہے جس سے آپ دکھی انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں اور ان تمام بیماریوں اور امراض کا اعلاج کر سکتے ہیں جو رب کائنات نے پیدا کی ہیں ۔ اسی لیے کچھ لوگ اسی کو مسیحائی سے تشبیہ دیتے ہیں ۔

ایک اچھا ڈاکٹر کئی مریضوں کے دکھوں کا مداوا کرسکتا ہے اور اُن کی زندگی کی رونقیں لوٹا سکتا ہے ۔ ایک ڈاکٹر کو مختلف بیماریوں اور اُن کے علاج کی جانکاری تو ہوتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے وہ اپنے اندر دکھی انسانیت کا درد پیدا کرے اور کچھ اپنی دل کی صفائی پہ بھی توجہ دے ۔ اپنے پیشے کو صرف پیسہ بنانے کی مشین نہ سمجھے بلکہ اس کو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کی ایک مشین سمجھے ۔

آپ کا مریض صرف ایک عدد یا نمبر نہیں ہے بلکہ اُس کی ایک جیتی جاگتی شخصیت ہے ۔ اس مرض میں مبتلاء ہونے سے قبل وہ بھی ایک نارمل زندگی گزارتا تھا ۔ اُ س کی بھی کچھ اُمنگیں اور خواہشات ہوں گی ۔ کیا بیماری کے باعث وہ اپنی زندگی سے ، اپنے گھر والوں سے اور اپنے مستقبل سے مایوس ہو چلا ہے؟

کیا اس نے بیماری کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں یا ابھی بھی وہ عزم و حوصلہ کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ کررہا ہے؟ اگر آپ نے بطور ڈاکٹر اس مریض کو اُن لمحوں میں اور اُن گھڑیوں میں سہارا دیا جب اُس کی شمع زندگی ٹمٹما رہی تھی اور کشتی ڈوب رہی تھی تو یقین جانیں بہت زبردست کام کیا ہے۔

آپ نے دوا کے ذریعے نہ صرف جسمانی علاج کرنا ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مریض کی صحیح طریقہ سےCounselling  بھی کرنی ہے ۔ اُس کو ہمت اور حوصلہ دلانا ہے اور بہت ہی عمدگی سے ،نفاست سے اور جانفشانی سے اپنے مریض کا علاج کرنا ہے ۔ ایک ڈاکٹر کی جانب سے بولے گئے تسلی کے دو بول یا صرف ایک مسکراہٹ بھی اپنے اندر بہت وزن رکھتی ہے ۔ ایک اچھے ڈاکٹر کی موجودگی اور نظر کرم سے آدھا مرض تو ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔

ایک اچھے ڈاکٹر کی دلجوئی سے مریض کی قوت مدافعت کو زبردست جلا  ملتی ہے اور اس میں بڑا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کینسر کے کئی مریض جو ایڈوانس سٹیج میں تھے اور مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے جب اُن کا صحیح طریقہ سے علاج ہوا، ان کی کونسلنگ ہوئی اور اُن کے ساتھ پیار، محبت اور شفقت کا سلوک کیا گیا تو نہ صرف انہوں نے اس بیماری کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ کئی نے تو اس کو شکست بھی دی ۔

کئی دفعہ خیال آتا ہے کہ مریضوں سے زیادہ تو ہمارے ڈاکٹروں کو علاج کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر بننا بڑی بات نہیں ہے لیکن (اچھا ) ڈاکٹر بن کر دکھانا اصل کمال ہے ۔ اگر ہمارے ڈاکٹروں کو تھوڑی سی تربیت دی جائے کہ وہ اچھے اخلاق کا ، خدا ترسی کا ، اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کریں تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے ۔ ہمارے عوام کا اس مقدس پیشہ پہ اعتماد بحال ہوسکتا ہے ۔

مجھے اُمید ہے کہ جو بھی لوگ میڈیسن کے پیشے سے وابستہ ہیں خصوصی طور پر ہمارے ڈاکٹر ز وہ ضرور اس کالم کو پڑھ کر اپنے اندرکوئی مثبت تبدیلی لائیں گے ۔ اگر آپ اس مضمون سے ایک پیغام یاد کر لیں جسے اس کا نچوڑ کہہ سکتے ہیں تو وہ یہ ہے ”پہلے انسانیت ، پھرڈاکٹری “۔

Tags: ڈاکٹر عاصم صہبائی
sohail

sohail

Next Post

پیزا شاپ کے ملازم کا جھوٹ، جنوبی آسٹریلیا میں لاک ڈاون لگ گیا

بیرون ملک پاکستانیوں کی وطن واپسی معیشت کے لیے خطرہ، اسٹیٹ بینک نے خبردار کر دیا

پاک بھارت سوشل میڈیا صارفین کے درمیان اچانک جنگ کیوں چھڑ گئی؟

کورونا ویکسین حاصل کرنے کی دوڑ، غریب ممالک کیا کریں؟

135 کلومیٹر طویل سرنگ کھود کر چوری کی کوشش الارم نے ناکام بنا دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In