اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جبری واپسی ملکی معیشت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو اس سلسلے میں پیشگی اقدامات اور جامع حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔
مرکزی بینک کی طرف سے مالی سال 2019-20 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن واپسی پر مجبور کیا جاتا ہے تو ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔
سالانہ رپورٹ میں ملک کے مرکزی بینک کی جانب سے ایک مکمل اور جامع خاجہ فراہم کیا گیا ہے جس میں دوسرے ممالک میں مقیم افراد کی وطن واپسی کے بعد کی سنگین صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے قبل دوسرے ممالک میں ایک لاکھ ملازمتوں کے لیے بھرتی کا عمل شروع کیا گیا تھا جسے لاک ڈاؤن کے باعث معطل کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جب تک ملازمین کی بھرتیوں کا منصوبہ دوبارہ شروع نہیں کیا جاتا تب تک یہ مواقع سامنے نہیں آئیں گے۔
مرکزی بینک کے بیان میں بتایا گیا کہ تقریباً 50 ہزار بیرون ملک مقیم پاکستانی کورونا کے باعث ملازمتوں سے چھٹی پر ہیں۔ ان ملازمین کی معاشی صورتحال انتہائی خطرے سے دوچار ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کورونا کے باعث لاک ڈاؤن اور فضائی سفر کی بندش سے قبل 60 ہزار افراد کو بیرون ملک ملازمتوں پر بھرتی کیا گیا تھا، یہ ملازمین تاحال اپنی ملازمتوں کے انتظار میں ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تقریباً 50 ہزار تارکین وطن کو بغیر تنخواہوں کے وطن واپس بھیجا گیا، ان کو نوکریوں سے برخاست نہیں کیا گیا لیکن ان کی ملازمتیں کورونا کے تناظر میں خطرے کا شکار ہیں۔
یاد رہے اپریل سے جون کے دوران قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ذریعے ایمرجنسی فلائیٹ آپریشن کے تحت 90 ہزار 308 شہریوں کو وطن واپس لایا گیا تھا۔