سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کے جنازے میں شرکت کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی منظور کر لی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کابینہ نے تھرو سرکولیشن شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پانچ روزہ پیرول پر رہائی کی منظوری دی۔
تھروسرکولیشن صوبائی کابینہ سے منظوری کی سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوادی گئی ہے۔
یاد رہے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس میں کوٹ لکھپت جیل میں موجود شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے جنازے میں شرکت کے لیے پیرول کی درخواست دی تھی۔
مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے جاتی امراء میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو دن ہوگئے ہیں لیکن شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پیرول پر رہائی نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاملات میں تاخیر کر رہی ہے جب کہ ہماری کوشش ہے کہ دونوں رہنماوں کو آج رہائی مل جائے۔
انہوں نے بتایا کہ بیگم شمیم اختر کی میت پاکستان لانے کے بارے میں آج پتا چلے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بیگم شمیم اختر کی میت پاکستان لانے کے لیے قانونی دستاویزات جاری نہیں ہوئیں، اس کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کی میت کو کب پاکستان کے لیے روانہ کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ جس دن میت پاکستان آئے گی اسی دن نماز ظہر کے بعد نماز جنازہ ادا کر دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو طبی ماہرین کی ٹیم نے سفر کرنے سے منع کیا ہے، اسی لیے ہم کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی ہمشیرہ اور بہنوئی میت کے ہمراہ پاکستان آئیں گے۔
یاد رہے کہ نواز اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر دوروز قبل 90 سال کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئی تھیں۔
مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کو پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کے دوران اپنی دادی کی وفات کی اطلاع ملی تھی جس پر انہوں نے جلسے سے شرکاء سے معذرت کر کے لاہور کے لیے راونگی اختیار کی تھی۔
اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے نواز شریف سے پاکستان نا آنے کی درخواست بھی کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی حکومتی شخص میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ مجھ تک دادی کی وفات کی اطلاع پہنچا دیتے۔
انہوں نے لکھا کہ میں نے میاں صاحب کو درخواست کی ہے کہ بالکل واپس نا آئیں۔ یہ ظالم اور انتقام میں اندھےلوگ ہیں جن سے کسی بھی قسم کی انسانیت کی توقع نہیں