پاکستان کے بیشتر علاقوں میں سرما کی بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے، ماہرین موسمیات نے بارشوں کے ساتھ سردی کی شدت میں اضافے کی پیشگوئی بھی کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارشوں کو ناپ کر بتاتے ہیں کہ کس علاقے میں کتنے ملی میٹر بارش ہوئی۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ماہرین بارش کو کس طرح ناپ کر ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہیں؟
اگر نہیں تو آیئے جانتے ہیں۔
وائس آف امریکا کی جانب سے شائع کی گئی ایک ویڈیو میں محکمہ موسمیات کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کو کیسے ماپا جاتا ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ بارش کو ریکارڈ کرنے کے لیے ہمارے پاس رین گیجز ہوتے ہیں، جو کہ مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔
رین گیجز کی ایک قسم نان ریکارڈنگ رین گیج ہے جب کہ دوسری قسم کو ریکارڈنگ گیجز کہا جاتا ہے، پاکستان میں دونوں اقسام کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ڈاکٹر خالد ملک نے بتایا کہ ہمارے پاس مینوئل رین گیج ہوتا ہے جس کا نام اسٹینڈرڈ ہے، اسے سائمن رین گیج بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ کار میں ہمارے پاس ایک جار ہوتا ہے اور اس کے اوپر فنل لگی ہوتی ہے۔ بارش کا پانی فنل سے ہوتا ہوا جار میں اسٹور ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جار میں 100 ملی میٹر تک پانی اسٹور ہونے کی گنجائش ہوتی ہے، ہم ہر تین گھنٹے بعد جار سے پانی نکال کر پیمائش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بارش زیادہ ہو اور ہمیں محسوس ہو کہ بارش سو ملی میٹر سے زیادہ ہو رہی ہے تو ہم ہر گھنٹے بعد اس جار کو چیک کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹینڈرڈ سائمن رین گیج پوری دنیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ مینوئل ہے۔ اسی کی بنیاد پر سارا ڈیٹا مرتب کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بارش کی پیمائش کے آلات پاکستان میں محکمہ موسمیات کے سو سے زائد مراکز میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آلات مسلسل بارش کی پیمائش سے ہمیں مطلع کرتے ہیں۔ کچھ شہروں میں ڈیجیٹل طریقوں سے بھی بارش کی پیمائش کی جاتی ہے۔