سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو اپنی منگنی کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیے جانے پر برہم ہو گئیں۔
اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے اپنی منگنی کی جعلی ویڈیو پھیلانے والوں سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ان تصویروں اور ویڈیوز سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
بختاور بھٹو نے انیس جیلانی نامی ٹوئٹر صارف کی ٹویٹ کا لنک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر کسی بھی شخص کو پڑھنا نہیں آتا تو وہ کم از کم مذکورہ ویڈیو میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی غیر موجودگی پر تو غور کرے۔
انہوں نے جھوٹی تصاویر اور ویڈیوز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی منگنی کے کارڈ پر منگنی کی تقریب کی تاریخ واضح طور پر 27 نومبر لکھی ہوئی ہے۔
بختاور بھٹو زرداری کی ٹویٹ کے بعد انیس جیلانی نے اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی جعلی ویڈیو پر معافی مانگی اور بتایا کہ انہوں نے ویڈیو ڈیلیٹ کر دی ہے۔
یاد رہے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اپنی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو کی منگنی کی تقریب 27 نومبر کو کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بختاور بھٹو زرداری کی منگنی صنعت کار محمد یونس چوہدری کے بیٹے محمود چوہدری سے بلاول ہاؤس میں ہوگی، منگنی کی تقریب کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
منگنی میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے لیے کورونا کا منفی ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب بختاور بھٹو زرداری کے اکلوتے بھائی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قرنطینہ منتقل ہو گئے ہیں۔
بلاول بھٹو اپنی بہن کی منگنی میں شریک نہیں ہوں گے۔
بختاور بھٹو کی منگنی سے متعلق خبریں تھیں کہ وہ تقریب میں اپنی والدہ بینظیر بھٹو کی جانب سے نکاح پر پہنے گئے گلابی و ہرے رنگ کے لباس جیسا لباس پہنیں گی۔