امریکی اسٹیٹ سیکرٹری مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد اور اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات میں شامل ہونے کی خبروں کی وضاحت کر دی ہے۔
رواں ہفتے میڈیا میں خبریں گردش میں تھیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو سے نیوم میں ملاقات کی ہے اور امریکی اسٹیٹ سیکرٹری مائیک پومپیو بھی ملاقات میں موجود تھے۔اسرائیل کے وزیر تعلیم نے اپنے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کو کامیانی قرار دیا اور اس پر بینجمن نیتن یاہو کو مبارکباد بھی دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے۔
سعودی خبررساں اداروں نے محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی تھی۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی تردید بیان سامنے نہیں آیا۔
دو روز قبل خبررساں ادارے فاکس نیوز کے اینکر نے مائیک پومیو سے درخواست کی تھی کہ وہ محمد بن سلمان اور نتین یاہو کے ساتھ اپنی ملاقات کی خبروں کی وضاحت کریں۔
اسٹیٹ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ملاقات کی خبریں میری نظر سے بھی گزری ہیں، میں ان دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ تھا، میں یروشلم میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ساتھ بھی تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، میں یہ بات ان پر چھوڑوں گا کہ اس ملاقات پر گفتگو کریں جو شاید ان کے درمیان ہوئی یا شاید نہیں ہوئی۔
اینکر سوال کیا کہ ‘کیا آپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے سے قبل دیگر ممالک مثلاً سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے اعلانات کی توقع رکھتے ہیں؟
سوال کا جواب دیتے ہوئے مائیک پومیو نے کہا کہ میں کرتا ہوں، مجھے اس طرح کے مزید اعلانات کی توقع ہے، کیا وہ آئندہ 30 روز یا 60 روز یا پھر 6 ماہ میں سامنے آتے ہیں یہ جاننا مشکل ہے لیکن سفر کا راستہ بالکل واضح ہے۔
یاد رہے رواں ہفتے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی سعودی عرب کے چھوٹے سے علاقے میں ملاقات کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تھیں۔