نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں موجود قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی الگ تھلگ رہنے کے بجائے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمرے کی نظر میں آگئے۔
نیوزی لینڈ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو قرنطینہ کے دوران ہوٹل اسٹاف سے کھانا لیتے دیکھا گیا تھا، کھلاڑیوں نے ماسک نہیں پہنے تھے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے گئے مناظر میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بغیر ماسک کے ایک دوسرے سے گپ شپ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد نیوزی لینڈ کے محکمہ صحت نے ملک میں نافذ کورونا پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے پر انتباہی نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔
نیوزی لینڈ حکام نے جانب سے کرکٹ امور کے ذمہ دار ادارے پی سی بی کو بھی کھلاڑیوں کی خلاف ورزیوں کے بارے میں انتباہی خط جاری کیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وسیم خان کا کہنا تھا کہ ہمیں نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے پیغام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے کھلاڑیوں کی طرف سے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔
وسیم خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ آئندہ کورونا پروٹوکول کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر کھلاڑی ایس او پیز کی خلاف ورزیاں کرتے دیکھے گئے تو پوری ٹیم کو واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمندگی کا مقام ہے، اس کے بعد ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یاد رہے ٹی ٹونٹی اور ٹیسٹ سیریز کے لیے نیوزی لینڈ میں موجود قومی ٹیم کے چھ کھلاڑیوں میں کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد انہیں قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
ان کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اب آئسولیشن میں قومی ٹیم کو ٹریننگ کے لیے دیا گیا استثنیٰ واپس لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش تک پاکستانی ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت نہیں ہو گی۔
اس سے پہلے لاہور سے نیوزی لینڈ روانگی سے قبل پاکستانی ٹیم کے اسکواڈ اور مینجمنٹ کے چار مرتبہ کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے تھے اور چاروں مرتبہ یہ ٹیسٹ منفی آئے تھے جس کے بعد اسکواڈ کو کیویز کے دیس روانہ ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔