قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے بیٹے، بیٹی اور داماد کو منی لانڈرنگ کیس میں اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔
لاہور کی احتساب عدالت کے جج جسٹس جوادالحسن نے شہباز خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔
سماعت کا احوال
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج نیب کے گواہوں کی شہادتیں قلمبند کرنی ہیں جب کہ شریف خاندان کے وکلاء کی جانب سے امجد پرویز ایڈوکیٹ کی مصروفیت کے باعث سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔
نیب کے گواہ ڈپٹی سیکرٹری پنجاب اسمبلی فیصل بلال سمیت تین گواہوں نے منی لانڈرنگ کیس میں بیان قلم بند کرائے۔
فیصل بلال نے عدالت کو بتایا کہ میں نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اکاؤنٹس کا ریکارڈ نیب میں جمع کرا دیا ہے، شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے بطور ایم پی اے جتنے فوائد لیے اس کا بھی تمام ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت نمٹاتے ہوئے منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز، بیٹی رابعہ عمران اور داماد ہارون یوسف کو اشتہاری قرار دیا۔
عدالت کی جانب سے منی لانڈرنگ میں ملوث دیگر ملزمان محمد طاہر نقوی اور علی احمد خان کو بھی اشتہاری قرار دے دیا۔
شہباز شریف کی والدہ کی وفات پر عدالت کا اظہار تعزیت
دوران سماعت فاضل جج نے شہباز شریف کی والدہ کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لیے دعا کی۔
نیب پراسیکیوٹر نے بھی اپنے دلائل کے دوران شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی اور کہا کہ مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔