تشدد سے بچنے کے لیے خود کو افغانستان سے فرانس اسمگل کرنے والے مرتضیٰ خادمی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہیں فرانس پولیس کی جانب سے پٹائی کا سامنا کرنا پڑا۔
مرتضیٰ خادمی کا کہنا تھا کہ فرانس کی پولیس فورس بے رحم ہے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ انسانیت پسند ہیں۔
پیرس میں ریلوے اسٹیشن کے قریب خیرات بانٹنے والے اداروں سے کھانا لیتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ بیتے احوال سنائے، انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ بالکل بھی ویسے نہیں ہیں جیسا ہم سمجھتے ہیں۔
خادمی ان درجنوں تارکین وطن اور پناہ گزینوں میں شامل ہے جنہوں نے شہر کے مرکزی چوک میں احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ ان افراد کے دھرنے کا مقصد حکومت کی توجہ اپنے حالات زندگی کی طرف مبذول کرانا ہے۔
پیر کی رات پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور دھرنے میں شامل افراد کو ان کے خیموں سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔
وزیرداخلہ گیرارڈ درمینن کا کہنا تھا کہ پولیس اور مظاہرین کی ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ واقعات ناقابل برداشت تھے، انہوں نے بتایا کہ ناقانل برداشت سلوک کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کچھ حکام کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا احتجاج غیرقانونی تھا، انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کے پاس قانونی حق تھا۔
ستائیس سالہ مرتضی خادمی کا کہنا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران اپنے خیمے میں موجود تھے جب پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ڈنڈے سے ان کو ماراجس کے بعد انہیں اپنی چیزیں خیمے میں چھوڑ کر قرار ہونا پڑا۔
خادمی نے بتایا کہ وہ افغانستان کے شہر مزاری شریف سے فرانس کے لیے نکلے تھے، وہ پاکستان اور ایران سے ہوتے ہوئے پیرس میں داخل ہوئے تھے۔