• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 4, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

تشدد سے بچنے کے لیے فرانس اسمگل ہونے والا شخص پولیس کے تشدد کا نشانہ بن گیا

by sohail
نومبر 26, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تشدد سے بچنے کے لیے خود کو افغانستان سے فرانس اسمگل کرنے والے مرتضیٰ خادمی کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب انہیں فرانس پولیس کی جانب سے پٹائی کا سامنا کرنا پڑا۔
مرتضیٰ خادمی کا کہنا تھا کہ فرانس کی پولیس فورس بے رحم ہے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ انسانیت پسند ہیں۔
پیرس میں ریلوے اسٹیشن کے قریب خیرات بانٹنے والے اداروں سے کھانا لیتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ بیتے احوال سنائے، انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ بالکل بھی ویسے نہیں ہیں جیسا ہم سمجھتے ہیں۔
خادمی ان درجنوں تارکین وطن اور پناہ گزینوں میں شامل ہے جنہوں نے شہر کے مرکزی چوک میں احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ ان افراد کے دھرنے کا مقصد حکومت کی توجہ اپنے حالات زندگی کی طرف مبذول کرانا ہے۔
پیر کی رات پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور دھرنے میں شامل افراد کو ان کے خیموں سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔
وزیرداخلہ گیرارڈ درمینن کا کہنا تھا کہ پولیس اور مظاہرین کی ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ واقعات ناقابل برداشت تھے، انہوں نے بتایا کہ ناقانل برداشت سلوک کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کچھ حکام کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا احتجاج غیرقانونی تھا، انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کے پاس قانونی حق تھا۔
ستائیس سالہ مرتضی خادمی کا کہنا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران اپنے خیمے میں موجود تھے جب پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ڈنڈے سے ان کو ماراجس کے بعد انہیں اپنی چیزیں خیمے میں چھوڑ کر قرار ہونا پڑا۔
خادمی نے بتایا کہ وہ افغانستان کے شہر مزاری شریف سے فرانس کے لیے نکلے تھے، وہ پاکستان اور ایران سے ہوتے ہوئے پیرس میں داخل ہوئے تھے۔

Tags: افغانستانپرتشدد مظاہرےفرانسمرتضی خادمیمہاجرین
sohail

sohail

Next Post

فضاؤں میں اڑتی ٹیکسی نے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا

کنویں میں گرنے والے ہاتھی کو 14 گھنٹوں کے آپریشن کے بعد بچا لیا گیا

کراچی سرکلر ریلوے کیس: وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

پاکستان نے کورونا ویکسین کیلئے چین سے امید لگا لی

وزیراعظم کی چوہدری برادران سے ملاقات میں شادی کی بات پر قہقہہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In