انٹرنشینل گالاز ایوارڈ اپنے نام کرنے والے عالمی شہرت یافتہ خواجہ سرا نایاب علی نےایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق کے لیے خدمات انجام دینے پر انہیں ہیروایشیا ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
ایوارڈ دینے کی تقریب تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقد ہوئی جہاں انڈیا، بنگلا دیش، نیپال، انڈونیشیا، فلپائن اور بھوٹان سمیت تمام ایشیائی ممالک سے 250 ٹرانس جینڈر افراد کو نامزد کیا گیا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی خواجہ سرا نایاب علی کے حصے میں یہ اعزاز آیا۔
نایاب علی کورونا وبا کی وجہ سے بنکاک نہیں جا سکی تھی لیکن ان کی جانب سے ریکارڈ کرایا گیا ویڈیو پیغام تقریب کے دوران نشر کیا گیا۔
نایاب علی اس سے پہلے رواں سال فروری میں آئرلینڈ حکومت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مشترکہ انٹرنشینل گالاز ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں، انہیں یہ ایوارڈ آئر لینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں دیا گیا تھا۔
وہ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا تھی جو انٹرنشینل گالاز ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں۔
یاد رہے نایاب علی مسلم دنیا میں کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی پہلی خواجہ سرا کا اعزاز بھی اپنے نام رکھتی ہیں۔
خواجہ سرا نایاب علی ایک تعلیم یافتہ شہری ہیں اور ماسٹر ڈگری حاصل کر چکے ہیں، میٹرک کا امتحان اے پلس گریڈ کے ساتھ دیا، این ٹی ایس ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہونے کے سبب ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری نہ ہو سکی، نایاب علی نے مذہبی تعلیم بھی حاصل کی۔