ایران نے اپنے سینیئر جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر حسین دیغان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران حملے کے مرتکب افراد پر طوفان بن کر ٹوٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دشمن کو بھی چوٹ پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
ایران کے جوہری سائنسدان قاتلانہ حملے میں جاں بحق
وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے واقعے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے اشارے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر میں انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ کاررائی ہے جس میں اسرائیل کے کردار کے اشارے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ حملہ کرنے والے افراد جنگ کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔
انہوں نے عالمی براداری سے اس بے رحمانہ قتل کی مذمت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے جوہری سائنسدان کے قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ قتل بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد خطے میں افراتفری پھیلانا ہے۔
یاد رہے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو تہران میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
خفیہ اداروں کا ماننا ہے کہ فخری زادہ ایران کے خفیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے روحِ رواں تھے اور کئی ممالک کے سفارتکار انہیں ایران کے بم کا باپ بھی کہتے تھے۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا کہ سائنسدان کا قتل مجرمانہ عمل ہے جو خطے میں تنازعے کو ہوا دینے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس سے قبل 2015 میں 6 عالمی طاقتوں نے ایران پر یورینیئم کی افزودگی کی حد مقرر کی تھی مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے خود کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا۔