وفاقی حکومت ایک ایسا آرڈیننس لانے پر غور کر رہی ہے جس میں اولاد کی جانب سے بزرگ والدین کو گھروں سے نکال دینے پر پابندی عائد کی جا سکے گی۔
ڈان اخبار کے مطابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے اس تجویز کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور انہیں ایک ایسا قانون لانے کی تجویز پیش کی ہے جو والدین اور اولاد کے درمیان گھر میں رہنے کے معاملات کی وضاحت بھی کرے اور والدین کو اولاد کے ساتھ گھر میں رہنے کا حق بھی دے سکے۔
یہ آرڈیننس جن معاملات پر قانونی پہلو واضح کرے گا ان میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ اگر گھر اولاد کی ملکیت ہے تو والدین کو اس سے بے دخل نہ کیا جا سکے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ گھر والدین کے نام ہے تو وہ ایک طے کردہ طریق کار کے ذریعے اولاد اور اپنی بہو کو گھروں سے بے دخل کرنے کا حق رکھتے ہوں، اس کے لیے پولیس اور انتظامیہ کی مداخلت کے ساتھ 10 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔
اگر مکان والدین یا ان کے والدین کی دی گئی رقم سے بنا ہو تو والدین کو ان کی زندگی تک اس میں رہنے کی رعایت فراہم کی جائے۔
فروغ نسیم نے وزیراعظم کو بتایا کہ اگر اس قسم کا آرڈیننس نافذ کردیا جائے تو اس سے وزیراعظم، وزیر قانون، پوری کابینہ اور صدر مملکت کو بھی پاکستان کے تمام والدین کی دعائیں ملیں گی۔
چنانچہ چند ہی لمحوں میں وزیراعظم نے اس تجویز کی منظوری دے دی اور وزیر قانون کو فوری طور پر آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔