جمعہ کے روز کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ہونے والے پولیس مقابلے کے حقائق تاحال سامنے نہ آ سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مبینہ مقابلے میں تحریک انصاف کی ایک عہدیدار خاتون کے ڈرائیور سمیت بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے 4 کارندے مارے گئے تھے۔
تحریک انصاف کی رہنما لیلیٰ پروین اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ علی حسنین نے پولیس مقابلے کی صداقت پر متعدد سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ڈرائیور عباس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا۔
واضح رہے مذکورہ جوڑے نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس پاکستان سے اپنے ڈرائیور کے قتل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ لیلیٰ پروین حقائق بیان نہیں کر رہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کال ڈیٹا کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے ڈرائیور نے مرکزی ملزم غلام مصطفیٰ کو 17 کالز کیں جبکہ مرکزی ملزم کا فون بھی ان (لیلیٰ پروین) کی ویگو گاڑی سے برآمد ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کارروائی کے تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہے اور بہت جلد ہم مزید تفصیلات جاری کریں گے۔
پولیس کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ڈکیت گروہ کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا جو 2017 سے ڈیفنس میں وارداتیں کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گینگ کے کارندے ڈکیتی کرنے کے لیے گھریلو ملازماؤں سے ان گھروں کی تفصیلات حاصل کرتے جہاں وہ ملازمت کرتیں۔
سینئر عہدیدار کے مطابق ڈیفنس میں زیادہ تر گھریلو ملازمائیں جنوبی پنجاب سے 2010 میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہجرت کر کے آئیں، یہ سرائیکی گروہ 25 سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔
عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ڈرائیور عباس گینگ کے سرغنہ کے ساتھ رابطے میں تھا، اس نے فون پر 41 مرتبہ بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ لیلیٰ پروین کے شوہر نے اپنی گاڑی پر اٹارنی ایٹ لا کی پلیٹ لگا رکھی ہے اس لئے ان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ ملزم پولیس مقابلے میں مارے جانے سے قبل اسی گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔