ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران میں قتل کیے گئے جوہری سائنسدان کو ریموٹ کنٹرول مشین گن کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔
نیم سرکاری خبررساں ادارے فارس کے مطابق ریموٹ کنٹرول مشین گن کو ایک دوسری کار سے آپریٹ کیا گیا تھا۔
ایرانی جوہری پروگرام کے بانی سمجھے جانے والے محسن فخری زادہ کو تہران کے نواحی علاقے ابصرد میں قاتلانہ حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خمینی سمیت ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے محسن فخری زادہ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل محسن فخری زادہ کے قتل سے متعلق مختلف خبررساں اداروں نے مختلف خبریں شائع کی تھیں۔
ابتدا میں فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ محسن فخری زادہ اپنی اہلیہ اور تین سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ بلٹ پروف کار میں سفر کر رہے تھے۔
فارس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے گاڑی کے باہر گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں تو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گاڑی سے باہر نکلے۔
خبررساں ادارے کے مطابق محسن فخری زادہ جیسے ہی گاڑی سے باہر نکلے 150 میٹر کے فاصلے پر کھڑی ایک نسان کار سے ان پر فائر کھولا گیا۔
فارس کے مطابق فائر کھولنے کے فوراً بعد نسان کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق محسن فخری زادہ کو 3 بار قاتلانہ حملے میں مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
دوسری جانب ایک اور نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق محسن فخری زادہ کی گاڑی کو گولیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ایک کار کو ان کی گاڑی کے قریب دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
ایران کے سرکاری ٹی وی ایریب کے مطابق پہلے محسن فخری زادہ کی گاڑی کے قریب دھماکہ کیا گیا جس کے بعد انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر حسین دیغان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران حملے کے مرتکب افراد پر طوفان بن کر ٹوٹے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دشمن کو بھی چوٹ پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے واقعے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے اشارے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر میں انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ کاررائی ہے جس میں اسرائیل کے کردار کے اشارے ہیں، صاف ظاہر ہے کہ حملہ کرنے والے افراد جنگ کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔