سپریم کورٹ میں لاہور پیکجز مال کے زیر قبضہ سرکاری زمین کی فروخت اور رینٹ سے متعلق کیس چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان عدالت میں پیش ہوئے۔
دلائل دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کر رکھا تھا جو بیماری کے باعث پیش ہونے سے قاصر ہیں۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ابھی تک زمین کے کرائے کا تعین کیوں نہیں ہوا؟
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو عدالت نے طلب کیا تھا وہ تحریری طور پر جمع کرائیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرکے رپورٹ پیش کریں۔
قاسم چوہان نے موقف اختیار کیا کہ ممبر کالونیز کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے، چیف سیکرٹری پنجاب بھی بیمار ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وکیل ڈاکٹر پرویز الحسن بھی کرونا وائرس کا شکار ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت زمین کے کرائے اور فروخت سے متعلق 4 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ جمع کرائے اور آئندہ سماعت پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پیش ہوں۔
یاد رہے پنجاب حکومت نے 1985 میں پیکجز مال کو صنعتی استعمال کے لیے 229 کنال انیس مرلے زمین لیز پر دی تھی، زمین کی لیز 2015 میں ختم ہوگئی تھی۔
سپریم کورٹ نے 2015 سے زمین کا کرایہ پیکجز مال سے طے کر کے وصول کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔