ارجنٹائن کے نامور فٹ بال کھلاڑی ڈیاگو میرا ڈونا کی موت کے چار دن بعد پولیس نے ان کے ڈاکٹر لیوپولڈ و لیوک کے کلینک اور گھر پر اس لیے چھاپہ مارا ہے کہ کہیں میرا ڈونا کے علاج میں کوتاہی تو نہیں برتی گئی تھی۔
میرا ڈونا کی بیٹیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی دی جانے والی دوائی کی تحقیات کی جائیں۔
اس ضمن میں ڈاکٹر لوکی نے کہا ہے کہ وہ تفتیش میں پولیس سے مکمل تعاون کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میرا ڈونا کی جان بچانے کیلئے وہ جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے وہ سب کیا۔
واضح رہے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح تقریبا 30 پولیس اہلکاروں نے ریڈ لوکی کے گھر پر چھاپہ مارا اور 30 افراد نے ہیونس آئرس میں ان کے کلینک پر چھاپہ مارا۔
پراسیکیوٹرز کے حکم پر اہلکار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میرا ڈونا کو آخری دن کیا ہوا تھا۔
میرا ڈونا کی وفات 25 نومبر کو 60 سال کی عمر میں ارجنٹائن کے دارالحکومت ہیونس آئرس مں واقع اپنے گھر پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی تھی۔
نومبر کے اوائل میں میرا ڈونا کے دماغ میں جمے ہوئے خون کو دور کرنے کیلئے ایک کامیاب سرجری کی گئی تھی، اس کے علاوہ شراب کے نشے سے نجات پانے کیلئے بھی ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔
میرا ڈونا دنیا کے سب سے زیادہ زیربحث رہنے والے عظیم کھلاڑی مانے جاتے تھے۔
میرا ڈونا کے اہل خانہ اور اس کے بعض قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ جب میرا ڈونا کو صحت یابی کیلئے گھر بھیجا گیا تو وہ اس پوزیشن میں نہیں تھے اور انہیں مزید دن کلینک میں رکھنا چاہئے تھا۔
چار ورلڈ کپ میرا ڈونا کی شہرت کی وجہ تھے
1986میں جب ارجنٹائن نے ورلڈ کپ جیتا تھا تو میراڈونا کپتان تھے، انگلینڈ کے خلاف میراڈونا کا ‘ہینڈ آف گاڈ’ گول اس ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں مشہور تھا۔
میراڈونا نے بارسلونا اور نیپولی فٹ بال کلب کے لیے بھی کھیلا۔ انہوں نے اطالوی کلب کے لیے دو سیریز اور ایک ٹائٹل بھی جیتا، میراڈونا نے اپنے کیریئر کا آغاز ارجنٹائن کی جونیئرز ٹیموں سے کیا۔
انہوں نے سیویا ، بوکا جونیئرز اور نیووال اولڈ بوائز کے لیے بھی کھیلا، انہوں نے ارجنٹائن کے لیے 91 میچوں میں 34 گول اسکور کیے، ان میں سے میراڈونا نے چار ورلڈ کپ کھیلے۔
میراڈونا کو 2008 میں ارجنٹائن کی قومی فٹ بال ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا، میراڈونا نے 2010 ورلڈ کپ کے بعد کوچ کی نوکری بھی چھوڑی تھی۔
جب میراڈونا کی موت ہوئی تو وہ جمناسیا ایج گیریما کلب کے انچارج تھا۔