پی ڈی ایم کا ملتان گھنٹہ گھر چوک میں ہونے والے جلسے میں اپوزیشن رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت پر سخت تنقید کی۔
مریم نواز کا خطاب
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوویڈ 19 سے پہلے کوویڈ 18 کو گھر بھیجنا ضروری ہے، یہ کیسا کورونا ہے جو صرف اپوزیشن کے جلسوں سے پھیلتا ہے مگر حکومت اور جماعت اسلامی کے جلسوں سے نہیں پھیلتا۔
انہوں نے کہا کہ نااہلی، نالائقی، مہنگائی، اور بےروزگاری خطرناک وائرس ہیں اور اس وائرس کا نام عمران خان ہے، پاکستان لگے وائرسوں کا علاج ضروری ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں یہ 6 سال سےمفرورہیں، اسٹیٹ بینک نے کئی خفیہ اکاوَنٹس پکڑے، بشیر میمن نے ان کی کرپشن کے انکشافات کیے، بلین ٹری منصوبے میں اربوں کھربوں کی کرپشن ہوئی، آٹا چینی اسکینڈل سامنے آئے مگر حکومتی عہدیدار کہتے ہیں کہ عمران خان ایماندار ہے۔
نون لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ جو سرکاری افسر کہتا ہے کہ غلط ہو رہا ہے اسے اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں، جب کورونا آیا تو مارکیٹ سے ماسک غائب کیے گئے، اقتدار کی کشتی ڈوبتی نظر آئی تو اس سے این آر او مانگ لیا جسے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں اسرائیل کوتسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ اس مہم کے پیچھےکون ہے، کشمیر مودی کی جھولی میں پھینک دیا اور کشمیری رہنماوَں کے خلاف غداری کے پرچے کاٹے گئے۔
مریم نواز نے کہا کہ مجھے دادی کی وفات کی اطلاع وقت پر پہنچنے نہیں دی گئی، ایک خاتون وزیر نے کہا کہ نوازشریف نے ماں کی میت پارسل کی، میری دادی نے آخری سانس میرے والد کی گود میں لی، میرے والد لندن میں کاوَنٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا، اللہ تعالیٰ دشمن بھی کسی کو دے تو ظرف والا دے۔
انہوں نے کہا کہ میری ماں آئی سی یو میں تھیں تو تصاویر بنائی گئیں، اکبربگٹی کو بلوچستان میں مار دیا اور پھر گھر والوں کوجنازے میں شرکت بھی نہیں کرنے دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اناڑی اور نالائق ملکی گاڑی چلا رہے ہیں، وزیراعظم کہتے ہیں کہ میں کاروبار نہیں کرتا، یہ ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ اس میں محنت کرنا پڑتی ہے، جب اے ٹی ایم مشین موجود ہو تو کاروبار کی کیا ضرورت ہے، جس نے ہمیشہ دوسروں کی جیبوں پر گزارہ کیا ہو اسے کاروبار کی کیا ضرورت ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ جس طرح عمران خان نے صادق اور امین کہنے والے جج کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا، اس طرح یہ سلیکٹرز کو بھی منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس نوازشریف کو نااہل قرار دیا اس کے دور میں چینی 50 روپے کلو تھی، آج صادق اور امین کے دور میں 120 روپے کلو ہے، آج غریب بھوکے پیٹ سو رہا ہے اور 30 روپے کی روٹی ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پرمشکل وقت ہے، نوازشریف کی والدہ بھی انتقال کر گئیں لیکن میرے والد نے کہا کہ مجھے غم بھلا کر ملتان جلسے کے لیے جانا ہے کیونکہ ان سے زیادہ عوام تکلیف میں ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کریں گے، انہیں لوگ وزیراعظم کے نام سے نہیں کوویڈ 18 کے نام سے یاد کریں گے۔
انہوں نے جلسے کے شرکاء سے سوال کیا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا گیا، کیا وہ پورا ہوا؟ دیگرجھوٹے وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی فراڈ تھا۔
آصفہ بھٹو کا خطاب
پاکستانی پیپلزپارٹی کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے خطاب کیا، انہوں نے پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس پر کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے، سیلیکٹڈ کو اب جانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کارکن تمام رکاوٹوں کے باوجود یہاں پہنچے، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ کارکن گرفتاریوں سے ڈر جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، بی بی شہید کا مشن آگے لے کر چلیں گے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف زرداری نے18ویں ترمیم اور انکم سپورٹ جیسے پروگرام شروع کیے، ذوالفقارعلی بھٹو اور بےنظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں۔
مولانا فضل الرحمان کا خطاب
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کشمیر کو مودی کے حوالے کر دیا، اب فلسطین کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی بات کر رہے ہیں، پہلے آپ کشمیر فروش تھے اب آپ فلسطین کو بیچنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے سے ملتان کے راستے بند کر دیے گئے، یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں سمیت بہت سے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا، ہم نے تو آمروں کا براہ راست مقابلہ کیا تو آپ کیا چیز ہیں، ہم نے آپ کو سیاست سے لاتعلق کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں ٹاکرا ہو گا، لاہور کا جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا، لاہور سے ان کا جنازہ نکلے گا، اسلام آباد تک ان کا پیچھا کریں گے۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ دھاندلی کے ذریعے آئے ہیں، پہلے دن سے آپ کو تسلیم نہیں کیا، آپ کے دور میں لوگ بےروزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہم جلسے نہیں کریں گے تو بھوکوں اور بےروزگار نوجوانوں کی آواز کون بنے گا؟ ہم قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں آئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ اور اتوار کو ملک بھر میں احتجاج کریں گے، ہم غریبوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم نے ڈنڈا دکھا دیا اب اس سے آگے مت جائیں، ہمیں اشتعال مت دلائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان اور پاکستانی اداروں کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں، موجودہ حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔